اسلام آباد: (وائس آف رشیا) جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے حکومتی بیانیے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سارا معاملہ دراصل صوبے کی معدنیات پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ہے۔
پارٹی کی مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت سیاسی مکالمے پر یقین رکھتی ہے اور حکومتی پالیسیوں پر تحفظات ہوں تو الزام تراشی کے بجائے سیاسی انداز میں جواب دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ موجودہ صورتحال پر پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس بلا کر ارکان کو اعتماد میں لیا جائے۔
مولانا فضل الرحمان نے گورنر راج کو مسترد کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ماضی میں کئی آپریشنز ہوئے مگر ان کے نتائج کیا نکلے؟ ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے فاٹا کو صوبے میں ضم کیا تھا اور آج وہی جماعت سابق فاٹا کو مرکز کے حوالے کر چکی ہے، ان کی نظر میں یہ سب معدنیات پر کنٹرول کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی بھی انہی اضلاع میں لگائی گئی ہے اور فاٹا کے عمائدین سے ملاقاتوں میں اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ انضمام کا عمل ناکام ثابت ہوا ہے۔ انہوں نے کولن پاول کے اس بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فاٹا میں فوج بھیجنے کی تجویز امریکہ کی تھی؛ سرمایہ کاری سے انہیں اختلاف نہیں مگر سوال یہ ہے کہ صرف امریکہ ہی دلچسپی کیوں لے رہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ کے پی میں بننے والی عبوری کونسل میں جے یو آئی کا کوئی رکن شامل نہیں ہوگا اور اقتدار کی تبدیلی طاقت کے بجائے آئین کے مطابق ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق صدر مملکت نے اطمینان کے بغیر دستخط کر کے آئینی تقاضے پورے نہیں کیے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ذوالفقار علی بھٹو اور آصف علی زرداری نے بھی گورنر راج لگائے تھے، کیا اس وقت انہیں تسلیم کیا گیا تھا؟
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اس وقت طاقتور قوتوں کے کہنے پر طاقت کا استعمال ہو رہا ہے اور کوئی ایک طاقت پوری قوم کے مفاد کی ترجمانی نہیں کر سکتی۔ ان کے مطابق ایشیا ایک بار پھر عالمی معاشی مرکز بنتا جا رہا ہے، اسلامی دنیا کا ایک مؤثر بلاک ہونا چاہیے اور اسلامی کانفرنس ایک غیر موثر بلاک ہے۔ انہوں نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کو مسلم اتحاد روکنے کی کوشش قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے باعث ان کی جماعت نے بھی ڈیڑھ سو سے زائد لاشیں اٹھائی ہیں مگر انہوں نے ہمیشہ بندوق کی سیاست کی نفی کی۔ ان کے مطابق پرویز مشرف کا دیا گیا نظام ناکام ہوا، پولیس کو انتظامیہ سے الگ کیا گیا اور اب 25 سال بعد اسی نظام کو بحال کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔
مولانا نے اعلان کیا کہ فاٹا جرگہ بلایا جائے گا، اسلام آباد میں طلبہ کنونشن ہوگا اور 26 نومبر کو سرگودھا میں عوامی اجتماع کیا جائے گا۔ مجلس شوریٰ نے نئے انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جے یو آئی 2018 اور 2024 کے انتخابی نتائج کو تسلیم نہیں کرتی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا نواز شریف، شہباز شریف اور آصف علی زرداری سے پہلے بھی احترام کا رشتہ تھا اور آج بھی ہے اور وہ کسی سے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ نہیں مانگ رہے۔









