صدر پوتن کی 74ویں سالگرہ، عالمی رہنماؤں سے رابطے، سکیورٹی کونسل کا اجلاس بھی شیڈول

ماسکو:(وائس آف رشیا) روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے اپنی 74ویں سالگرہ بھی سرکاری مصروفیات کے دوران گزاری۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف کے مطابق صدر پوتن نے کریملن میں معمول کے سرکاری امور انجام دیے اور متعدد عالمی رہنماؤں سے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔

دیمتری پیسکوف نے بتایا کہ غیر ملکی رہنماؤں نے صدر پوتن کو سالگرہ کی مبارک باد پیش کی، تاہم بعض ٹیلی فونک رابطوں کے دوران دوطرفہ اور بین الاقوامی معاملات پر بھی مختصر تبادلہ خیال کیا گیا۔ کریملن تمام ٹیلی فونک رابطوں کی تفصیلات مشترکہ اعلامیے کی صورت میں جاری کرے گا۔

بین الاقوامی رابطوں کے بعد صدر پوتن کی زیر صدارت روسی سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کا عملیاتی اجلاس بھی شیڈول کیا گیا۔

کریملن کے ترجمان نے کہا کہ صدارتی انتظامیہ کو امید ہے کہ مصروف سرکاری شیڈول کے باوجود صدر پوتن کو شام کے وقت اپنے اہل خانہ اور قریبی دوستوں کے ساتھ سالگرہ منانے کا موقع ملے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ممکنہ ٹیلی فونک گفتگو سے متعلق سوال پر دیمتری پیسکوف نے کہا کہ ابھی اس رابطے کی تفصیلات طے نہیں ہوئیں۔ اگر امریکی جانب سے باضابطہ درخواست موصول ہوئی تو بات چیت کا انتظام فوری طور پر کیا جاسکتا ہے۔

یورپی یونین کی عسکری سرگرمیوں پر بات کرتے ہوئے کریملن کے ترجمان نے کہا کہ یورپ اپنی دفاعی اور سلامتی کی پالیسی روس کے ساتھ محاذ آرائی کی بنیاد پر تشکیل دے رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ ایک بند راستہ ہے، جو کسی مثبت نتیجے تک نہیں پہنچے گا۔

دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس اپنی قومی اور تزویراتی سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کررہا ہے، تاہم ماسکو اب بھی مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ روس سمجھتا ہے کہ مسائل نمائشی میزائل تجربات کے بجائے بامقصد بات چیت کے ذریعے حل کیے جانے چاہئیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں