سٹاک ہوم (وائس آف رشیا): فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر اسٹب نے کہا ہے کہ انہوں نے اور ناروے کے وزیراعظم یوناس گاہر اسٹورے نے یوکرین کی درخواست پر روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ٹیلی فون پر بات چیت کی، کیونکہ کیف روس کے ساتھ رابطے کا ایک راستہ کھولنا چاہتا تھا۔
فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر اسٹب نے مقامی نشریاتی ادارے وائی ایل ای کو بتایا کہ روسی صدر کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کا مقصد یوکرین کی درخواست پر ماسکو کے ساتھ رابطے کا ایک چینل قائم کرنا تھا۔
انہوں نے کہا کہ دیگر یورپی ممالک بھی اس گفتگو کے مندرجات سے آگاہ تھے۔
الیگزینڈر اسٹب کے مطابق یہ پہلا موقع تھا جب یورپی یونین کو یوکرین کی جنگ یا بحیرہ بالٹک کی صورتحال کے بارے میں روس کی جانب سے براہ راست پیغام موصول ہوا۔
فن لینڈ کے صدر نے برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی اس رپورٹ کو مسترد کر دیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر پوتن کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کے دوران سلاوی اقوام کی تاریخ کا موضوع بھی زیر بحث آیا تھا۔
الیگزینڈر اسٹب نے اس دعوے کو غلط معلومات قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی خبریں درست نہیں ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ فن لینڈ روس اور یوکرین کے درمیان ثالث کا کردار ادا نہیں کر رہا اور ان کا ملک یوکرین کی حمایت جاری رکھے گا۔
واضح رہے کہ فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر اسٹب اور ناروے کے وزیراعظم یوناس گاہر اسٹورے نے 27 اکتوبر کو فن لینڈ اور ناروے کی درخواست پر روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ٹیلی فون پر بات چیت کی تھی۔
اس گفتگو میں یوکرینی بحران کے حل کے لیے جاری کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ فریقین نے نومبر کے پہلے نصف میں متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں روس، یوکرین اور امریکہ کے درمیان سہ فریقی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے معاہدے کا خیرمقدم کیا۔









