پشاور:(وائس آف رشیا) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے موجودہ اقدامات سے ایک اور مشرقی پاکستان بنانے کی کوشش نظر آ رہی ہے۔
صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ گورنر کی جانب سے گزشتہ روز کیا جانے والا اقدام انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ خیبر پختونخوا میں عوام کی دو تہائی اکثریت سے منتخب حکومت موجود ہے، صوبائی اسمبلی، کابینہ اور حکومت مکمل طور پر فعال ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گورنر چیف سیکرٹری اور آئی جی کو بلا کر غیر آئینی اجلاس منعقد کر رہے ہیں، جو آئین اور جمہوریت پر حملہ ہے۔ پیپلز پارٹی ماضی میں بھی غلط کردار ادا کر چکی ہے۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ دو تہائی اکثریت والی حکومت کی موجودگی میں گورنر کا اجلاس ناقابل قبول ہے، پاکستان توڑنے کی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ اجلاس کی آئینی حیثیت پر ایڈووکیٹ جنرل سے رائے لی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ کسی کو جمہوریت پر شب خون مارنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ گورنر کی سرگرمیوں کا مقصد صوبائی حکومت کو اشتعال دلانا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے میں دہشت گردی کے دوبارہ سر اٹھانے کے بعد حالات خراب کیے گئے۔ 15 اکتوبر 2025 کو حلف کے بعد سے پولیس، سی ٹی ڈی اور اسپیشل برانچ کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاق کا خیبر پختونخوا کے ساتھ ہمیشہ سوتیلی ماں جیسا سلوک رہا۔ 2018 میں قبائلی اضلاع کے انضمام کے باوجود مالی انضمام مکمل نہیں ہوا، متاثرین کے تقریباً 100 ارب روپے کے معاوضے واجب الادا ہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ بے گھر افراد کے لیے اب تک 21 ارب روپے فراہم کیے ہیں۔ وفاق صوبے کا این ایف سی شیئر اپ گریڈ کرے اور واجبات ادا کرے۔
انہوں نے کہا کہ 22 سال میں 14 ہزار انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز اور 22 بڑے ملٹری آپریشنز کے باوجود امن قائم نہ ہونا وفاقی پالیسی کی ناکامی ہے۔ خیبرپختونخوا 100 دن میں امن قائم کر سکتا ہے۔









