مغربی ممالک اور عالمی اداروں نے فروری 2022 سے یوکرین کو 212 ارب ڈالر کی مالی امداد فراہم کی

یورپی یونین 85 ارب ڈالر سے زائد امداد کے ساتھ سب سے بڑا مالی معاون، امریکہ نے 30 ارب ڈالر سے زیادہ فراہم کیے، فوجی سازوسامان اور اسلحے کی امداد اعداد و شمار میں شامل نہیں

ماسکو (وائس آف رشیا): روسی خبر رساں ادارے تاس نے یوکرین کی وزارت خزانہ کے جاری کردہ اعداد و شمار کی بنیاد پر اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ فروری 2022 سے اب تک مغربی ممالک اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے یوکرین کو تقریباً 212 ارب ڈالر کی براہِ راست مالی امداد فراہم کی ہے۔ یہ رقم مختلف گرانٹس اور قرضوں کی صورت میں یوکرین کے سرکاری بجٹ کو فراہم کی گئی، جبکہ اس میں فوجی امداد، اسلحے، گولہ بارود، دفاعی سازوسامان، انٹیلی جنس معلومات اور یوکرینی فوجیوں کی تربیت کے اخراجات شامل نہیں ہیں۔

تاس کے مطابق یوکرین کی وزارت خزانہ کے اعداد و شمار پر مبنی حساب سے ظاہر ہوتا ہے کہ یورپی یونین یوکرین کا سب سے بڑا مالی معاون ہے، جس نے فروری 2022 سے اب تک 85 ارب ڈالر سے زائد فراہم کیے ہیں۔

امریکہ کی جانب سے سابق صدر جو بائیڈن کے دورِ حکومت میں یوکرین کو مجموعی طور پر 30 ارب 20 کروڑ ڈالر کی براہِ راست مالی امداد فراہم کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوری 2025 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد یوکرین کے لیے براہِ راست مالی امداد روک دی تھی۔

بین الاقوامی مالیاتی اداروں میں عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے تقریباً 15 ارب 60 کروڑ ڈالر جبکہ عالمی بینک نے 6 ارب 10 کروڑ ڈالر فراہم کیے۔

جاپان کی جانب سے یوکرین کو تقریباً 10 ارب 30 کروڑ ڈالر، کینیڈا کی جانب سے 6 ارب 20 کروڑ ڈالر اور برطانیہ کی جانب سے 3 ارب 80 کروڑ ڈالر کی مالی معاونت فراہم کی گئی۔

یوکرین کو انفرادی یورپی ممالک کی جانب سے بھی دوطرفہ مالی امداد اور قرضے دیے گئے۔ ان میں جرمنی کی جانب سے تقریباً ایک ارب 70 کروڑ ڈالر، ناروے کی جانب سے 71 کروڑ 70 لاکھ ڈالر اور فرانس کی جانب سے 43 کروڑ 70 لاکھ ڈالر شامل ہیں۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ تقریباً 212 ارب ڈالر کی رقم صرف یوکرین کے سرکاری بجٹ کو فراہم کی جانے والی براہِ راست مالی معاونت پر مشتمل ہے۔ اس میں مغربی ممالک کی جانب سے فراہم کیے گئے ہتھیاروں، فوجی گاڑیوں، گولہ بارود، دفاعی آلات، انٹیلی جنس تعاون اور یوکرینی فوجی دستوں کی تربیت پر ہونے والے اخراجات شامل نہیں کیے گئے۔

اس طرح یوکرین کو فراہم کی جانے والی مجموعی مالی اور عسکری معاونت کی مالیت براہِ راست بجٹ امداد کی مذکورہ رقم سے زیادہ ہوسکتی ہے، تاہم رپورٹ میں مجموعی فوجی امداد کی مالیت نہیں بتائی گئی۔

دوسری جانب روسی حکام متعدد مرتبہ یہ مؤقف اختیار کرچکے ہیں کہ مغربی ممالک کی جانب سے یوکرین کو فراہم کی جانے والی مالی اور عسکری امداد میدانِ جنگ کی صورتحال کو فیصلہ کن طور پر تبدیل نہیں کرسکے گی۔

یوکرین کی وزارت خزانہ کے اعداد و شمار کی بنیاد پر سامنے آنے والی یہ تفصیلات ایسے وقت میں جاری ہوئی ہیں جب روس اور یوکرین کے درمیان جنگ جاری ہے اور یوکرینی حکومت اپنی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے بیرونی معاونت حاصل کررہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں