صدر پوتن کے ممکنہ دورۂ امریکہ کے بارے میں قبل از وقت قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے، ایسے دوروں میں اہم انتظامی اور سفری مشکلات پیش آتی ہیں، دمتری پیسکوف
ماسکو (وائس آف رشیا): روسی صدارتی محل کریملن نے واضح کیا ہے کہ صدر ولادیمیر پوتن کی امریکہ میں ہونے والے جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کے حوالے سے تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے صدر پوتن کے ممکنہ دورۂ امریکہ سے متعلق قبل از وقت قیاس آرائیوں سے گریز کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس نوعیت کے بین الاقوامی دوروں کے انتظامات ہمیشہ پیچیدہ ہوتے ہیں اور ان میں متعدد عملی مشکلات اور چیلنجز درپیش ہوتے ہیں۔
روسی ٹیلی ویژن کے صحافی پاویل زاروبن کے ایک سوال کے جواب میں دمتری پیسکوف نے کہا کہ صدر پوتن کی جی 20 سربراہی اجلاس میں ممکنہ شرکت کے بارے میں ابھی بہت آگے کی بات نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ اس طرح کے دوروں میں اہم سفری، انتظامی اور لاجسٹک مشکلات پیش آتی ہیں۔
کریملن کے ترجمان سے سوال کیا گیا تھا کہ اگر روسی صدر ولادیمیر پوتن کی چین کے شہر شینزن میں امریکہ اور چین کے صدور سے ممکنہ ملاقات ہوتی ہے تو کیا اس کے بعد وہ امریکی ریاست فلوریڈا میں ہونے والے جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کی دعوت قبول کرسکتے ہیں۔
اس سوال پر دمتری پیسکوف نے محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ فی الحال اس امکان کے بارے میں کوئی حتمی بات کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ انہوں نے اس بات کی جانب توجہ دلائی کہ اعلیٰ سطح کے بین الاقوامی دوروں کے لیے وسیع انتظامات اور متعدد عملی امور کو مدنظر رکھنا پڑتا ہے۔
آئندہ جی 20 سربراہی اجلاس 14 اور 15 دسمبر کو امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر میامی کے قریب ڈورل میں منعقد ہونے کا اعلان کیا گیا ہے، جس میں دنیا کی بڑی معیشتوں کے رہنماؤں کی شرکت متوقع ہے۔
کریملن اس سے قبل بھی واضح کرچکا ہے کہ صدر ولادیمیر پوتن کی فلوریڈا میں ہونے والے جی 20 سربراہی اجلاس میں ذاتی طور پر شرکت کے بارے میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس خواہش کا اظہار کرچکے ہیں کہ وہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کو جی 20 سربراہی اجلاس میں دیکھنا چاہیں گے۔
کریملن کے تازہ بیان سے واضح ہوتا ہے کہ روسی صدر کی ممکنہ شرکت کا معاملہ فی الحال غیر حتمی ہے اور ماسکو کی جانب سے اس سلسلے میں کسی باضابطہ فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا۔
صدر پوتن کی ممکنہ شرکت کے بارے میں کریملن کا مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ میں ہونے والے آئندہ جی 20 سربراہی اجلاس اور عالمی رہنماؤں کی ممکنہ ملاقاتوں کے حوالے سے سفارتی حلقوں میں دلچسپی پائی جارہی ہے۔









