امریکا اور یورپ کے مبینہ یوکرین امن منصوبے سے لاعلم ہیں، کریملن

ماسکو: (وائس آف رشیا) کریملن نے کہا ہے کہ روس کو امریکا اور یورپی ممالک کی جانب سے یوکرین کے لیے مبینہ مشترکہ امن منصوبہ تیار کیے جانے کے بارے میں کوئی باضابطہ معلومات موصول نہیں ہوئیں۔

کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ ماسکو نے واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ دیکھی ہے، جس میں امریکا اور یورپ کے مشترکہ امن منصوبے کی تیاری کا دعویٰ کیا گیا، تاہم روس نے سرکاری سطح پر اس بارے میں کچھ نہیں سنا۔

روس اور یوکرین کے درمیان توانائی تنصیبات پر حملے روکنے کے ممکنہ معاہدے سے متعلق پیسکوف نے کہا کہ فریقین کے درمیان رابطے جاری ہیں، لیکن گزشتہ روز کے بعد کوئی نئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

دیمتری پیسکوف نے روس اور امریکا کے درمیان ڈیزل کی فراہمی کے معاہدے کو دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند تعاون کی مثال قرار دیا۔

انہوں نے روسی ڈیزل کے معاہدے اور یوکرین سے متعلق ماسکو کے مؤقف کے درمیان کسی تعلق کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ روس، امریکا اور توانائی کی عالمی منڈیوں کے مفادات سے مطابقت رکھتا ہے۔

کریملن کے ترجمان نے خبردار کیا کہ یورپی یونین کی پابندیاں اور دیگر یک طرفہ اقدامات روسی ایندھن کی امریکا کو فراہمی کے معاہدے میں رکاوٹ پیدا کرسکتے ہیں۔

پیسکوف نے کہا کہ یورپی ممالک خود بھی روسی خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کے بڑے خریداروں میں شامل ہیں، جبکہ یورپی رویے میں تضاد کا معاملہ عالمی ذرائع ابلاغ میں بھی زیر بحث ہے۔

انہوں نے کہا کہ روس بین الاقوامی منڈیوں میں اپنے مسابقتی توانائی وسائل فروخت کررہا ہے اور آئندہ بھی ان کی فراہمی جاری رکھے گا۔

یوکرین کے ساتھ امریکی انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے سے متعلق دیمتری پیسکوف نے کہا کہ کریملن کو ان رپورٹس کے بارے میں کوئی معلومات نہیں جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یوکرین کی جانب سے روسی آئل ریفائنریوں پر حملے جاری رہنے کی صورت میں کیف کو انٹیلی جنس معلومات کی فراہمی یا اسٹارلنک سروس بند کرسکتے ہیں۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن اور ولادیمیر زیلنسکی کے ممکنہ اجلاس سے متعلق انہوں نے کہا کہ ماسکو کا مؤقف پہلے سے واضح اور بدستور برقرار ہے۔ یوکرین میں انتخابات کے انعقاد سے متعلق روسی پوزیشن میں بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

یانڈیکس کے ڈیٹا سینٹرز پر یوکرینی ڈرون حملوں کے بعد صارفین کو ہونے والے ممکنہ مالی نقصان کے ازالے سے متعلق پیسکوف نے کہا کہ فی الحال معاوضے کے کسی طریقہ کار پر بات کرنا قبل از وقت ہے۔

انہوں نے کہا کہ یانڈیکس ایک مضبوط کمپنی ہے، تاہم اسے اس وقت مشکلات کا سامنا ہے۔ روسی حکومت صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے، جبکہ کمپنی حملوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات کررہی ہے۔

دیمتری پیسکوف کے مطابق صدر پوتن کریملن میں روسی وزیر ٹرانسپورٹ آندرے نکیتن سے ملاقات اور ایک بین الاقوامی ٹیلی فونک گفتگو بھی کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں