ماسکو: (وائس آف رشیا) روسی مسلح افواج نے یوکرین کے مختلف علاقوں میں لاجسٹکس مراکز، بندرگاہوں کے بنیادی ڈھانچے اور فوجی سامان کی ترسیل میں استعمال ہونے والے بحری جہازوں پر رات گئے ڈرون حملے کیے ہیں۔ روسی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کارروائیوں میں یوکرینی فوج کے لیے فوجی اور دوہرے استعمال کا سامان ذخیرہ کرنے اور منتقل کرنے والی اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
روسی وزارت دفاع کی جانب سے منگل کی صبح جاری بیان کے مطابق روسی افواج نے یوکرین کے لاجسٹکس مراکز، بندرگاہوں کی تنصیبات اور یوکرینی فوج کے مفاد میں استعمال ہونے والے بحری جہازوں کے خلاف ڈرون کارروائیاں جاری رکھیں۔
وزارت دفاع کے مطابق یوکرین کے شہر خمیلنیتسکی میں واقع گرینڈ امپورٹ لاجسٹکس مرکز کو نشانہ بنایا گیا، جہاں یوکرینی فوج کے لیے مختص فوجی اور دوہرے استعمال کا سامان ذخیرہ کیا جاتا تھا۔
روسی وزارت دفاع نے مزید بتایا کہ یوکرین کے وولین ریجن کے شہر کوویل میں واقع وینڈر ٹرانس سروس نامی کمپنی کے ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس مرکز پر بھی حملہ کیا گیا۔ روسی حکام کے مطابق یہ مرکز یوکرینی فوج کے لیے سامان اور دیگر ضروری وسائل ذخیرہ کرنے اور تقسیم کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
بیان میں کہا گیا کہ رینی بندرگاہ پر تین مال بردار بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، جو یوکرینی فوج کے لیے فوجی اور دوہرے استعمال کا سامان لے جا رہے تھے۔ اس کارروائی میں بندرگاہ کی ان تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا جو بحری جہازوں پر سامان چڑھانے اور اتارنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔
روسی وزارت دفاع کے مطابق بحیرہ اسود میں اوڈیسا کی بندرگاہ کی جانب جانے والے ایک مال بردار بحری جہاز پر بھی حملہ کیا گیا، جس کے بارے میں روسی حکام کا دعویٰ ہے کہ وہ یوکرین کے لیے فوجی سامان لے جا رہا تھا۔
دوسری جانب یوکرین کی ریاستی ایمرجنسی سروس نے بتایا ہے کہ کیف ریجن میں ایک صنعتی گودام کو نقصان پہنچا، جہاں حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی، تاہم امدادی کارروائیوں کے بعد آگ پر قابو پا لیا گیا۔
مغربی یوکرین کے لیوو ریجن کے گورنر میکسم کوزیتسکی نے بتایا کہ علاقے میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی ایک اہم تنصیب کو دو مرتبہ دھماکوں کے نتیجے میں نقصان پہنچا۔
اسی طرح یوکرین کے ترنوپل ریجن کی فوجی انتظامیہ کے سربراہ تاراس پاستوخ نے بتایا کہ علاقے میں توانائی کی تین تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے۔
اوڈیسا ریجن کی فوجی انتظامیہ کے سربراہ اولیگ کیپر نے بھی علاقے میں توانائی کی تنصیبات کو نقصان پہنچنے کی تصدیق کی، تاہم انہوں نے نقصانات کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
روسی وزارت دفاع نے ان حملوں کو یوکرینی فوج کے لیے سامان کی ترسیل اور ذخیرہ کرنے کے نظام کے خلاف کارروائی قرار دیا ہے، جبکہ یوکرینی حکام نے مختلف علاقوں میں صنعتی اور توانائی کی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصانات کی اطلاع دی ہے۔
روسی وزارت دفاع کی جانب سے بحری جہازوں اور فوجی لاجسٹکس مراکز کو نشانہ بنانے کے دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ ان حملوں میں ممکنہ جانی نقصان کی تفصیلات بھی سامنے نہیں آئیں۔









