روس کے بین الاقوامی سرمایہ کاری و اقتصادی فورم 2026 میں پاکستانی شخصیت راجہ قدیر احمد کو سفیر مقرر کر دیا گیا

ماسکو: (وائس آف رشیا): خیرسون ریجن کی فاؤنڈیشن برائے مستقبل کی ترقی نے راجہ قدیر احمد کو تیسرے بین الاقوامی تاوریدا سرمایہ کاری و اقتصادی فورم (ТИЭФ-2026) کا سفیر مقرر کر دیا ہے۔ ان کی تقرری 7 اکتوبر 2026 سے مؤثر ہے، جبکہ اس حوالے سے باضابطہ حکم نامہ 9 اکتوبر کو جاری کیا گیا۔

خیرسون ریجن کے گورنر کے مشیر اور فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر آر ایف سیرتلانوف کی جانب سے جاری حکم نامے کے مطابق راجہ قدیر احمد بین الاقوامی تقریبات اور مذاکرات میں فورم کے مفادات کی نمائندگی کریں گے۔ ان کی تقرری اعزازی اور بلامعاوضہ بنیادوں پر کی گئی ہے۔

حکم نامے کے مطابق تقرری کا مقصد فورم کے بین الاقوامی روابط کو فروغ دینا، ماہرین کی صلاحیتوں سے استفادہ کرنا اور بین الاقوامی سطح پر مشاورتی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔

راجہ قدیر احمد کو بین الاقوامی تقریبات اور مذاکرات میں فورم کی نمائندگی، مختلف ممالک سے مقررین، وفود اور مہمانوں کو مدعو کرنے کے اقدامات شروع کرنے اور فورم کا سرکاری معلوماتی مواد حاصل کرکے اس کی تشہیر اور تقسیم کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔

فورم کے سفیر کے لیے جاری کردہ علیحدہ سرکاری ہدایات میں ان کی حیثیت، اختیارات اور کام کرنے کا طریقہ کار بھی واضح کیا گیا ہے۔ ان ہدایات کے مطابق سفیر بین الاقوامی سطح پر فورم کی نمائندگی کرے گا اور اہم فیصلے فورم کی انتظامی کمیٹی کے ساتھ مشاورت اور اتفاق رائے سے کیے جائیں گے۔

تیسرے بین الاقوامی تاوریدا سرمایہ کاری و اقتصادی فورم 2026 کا مرکزی موضوع ’’تعلیم اور افرادی قوت: انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری‘‘ رکھا گیا ہے۔

فورم کا بنیادی مقصد تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت، افرادی قوت کی ترقی اور انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری کے حوالے سے مختلف ممالک کے درمیان بین الاقوامی مکالمے کو فروغ دینا ہے۔

فورم کے پروگرام میں مرکزی اجلاس، پینل مباحثے اور کاروباری سطح پر براہ راست ملاقاتیں شامل ہوں گی۔ مرکزی اجلاس میں عالمی رجحانات اور مستقبل کی اسٹریٹجک ترجیحات پر گفتگو ہوگی، جبکہ پینل مباحثوں میں تعلیم، افرادی قوت، مصنوعی ذہانت اور انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری کے موضوعات زیر بحث آئیں گے۔

فورم کے عملی حصے میں بزنس ٹو بزنس (B2B) ملاقاتوں، مذاکرات، کاروباری معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کے لیے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

فورم کی دستاویز کے مطابق شراکت دار ممالک کو کاروباری اداروں اور یونیورسٹیوں کے ساتھ براہ راست روابط، ٹیکنالوجی کے تبادلے، مشترکہ کاروباری منصوبوں اور تعلیمی تعاون کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

اس کے علاوہ مختلف ممالک کے درمیان طلبہ اور اساتذہ کے تبادلے، مشترکہ منصوبوں کے لیے سرمایہ کاری اور بین الاقوامی سطح پر کاروباری و تعلیمی اداروں کی شناخت کو فروغ دینا بھی فورم کے مقاصد میں شامل ہے۔

فورم کے ذریعے مختلف ممالک کو تعلیم، افرادی قوت کی تربیت اور انسانی سرمائے سے متعلق مشترکہ مسائل پر سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر تبادلہ خیال کرنے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔

سرکاری ہدایات کے مطابق فورم مختلف ممالک کے درمیان مساوی بنیادوں پر مکالمے اور طویل المدتی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک بین الاقوامی پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گا۔

فورم کے سرکاری دستاویزات کے مطابق شراکت دار ممالک کے لیے تعلیم، کاروبار، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کے خصوصی مواقع رکھے گئے ہیں۔ ان میں یونیورسٹیوں اور کاروباری اداروں کے درمیان براہ راست رابطے، مشترکہ منصوبوں کا قیام، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور طلبہ و اساتذہ کے تبادلے شامل ہیں۔

فورم میں کاروباری اداروں اور اسپانسرز کو بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی، اپنی کمپنی، یونیورسٹی یا علاقے کو عالمی سطح پر متعارف کروانے اور میڈیا کوریج کے ذریعے بین الاقوامی شناخت حاصل کرنے کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

فورم کی دستاویز میں 50 سے زائد ممالک کے نمائندوں کے ساتھ کاروباری اور پیشہ ورانہ روابط قائم کرنے کے مواقع کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کاروباری اداروں کو معروف یونیورسٹیوں کے باصلاحیت ماہرین اور فارغ التحصیل طلبہ کے ساتھ روابط بڑھانے کا موقع ملے گا۔

راجہ قدیر احمد کو فورم کے سفیر کی حیثیت سے سرکاری معلوماتی اور تشہیری مواد میں اپنا نام اور عہدہ درج کروانے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔

سفیر کے اختیارات اور ذمہ داریوں سے متعلق ہدایات کی منظوری خیرسون ریجن کے گورنر کے مشیر اور فورم کے ڈائریکٹر آر ایف سیرتلانوف نے 7 اکتوبر 2026 کو دی تھی۔

راجہ قدیر احمد اپنی نئی ذمہ داریوں کے تحت بین الاقوامی تقریبات اور مذاکرات میں تیسرے بین الاقوامی تاوریدا سرمایہ کاری و اقتصادی فورم 2026 کی نمائندگی کریں گے اور مختلف ممالک کے مقررین، کاروباری وفود اور مہمانوں کو فورم میں شرکت کی دعوت دینے کے اقدامات کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں