ماسکو: (وائس آف رشیا) یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کی سابق ترجمان یولیا مینڈل نے صدر زیلنسکی کی عوامی تقاریر اور میڈیا انٹرویوز پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرین میں جاری جنگ اور عوام کو درپیش مسائل کے بجائے ان کی گفتگو کا زیادہ تر محور ان کی اپنی شخصیت ہوتی ہے۔
24 اکتوبر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں یولیا مینڈل نے کہا کہ صدر زیلنسکی جب بھی عوامی سطح پر خطاب کرتے ہیں یا ذرائع ابلاغ کو انٹرویوز دیتے ہیں تو ان کی گفتگو میں یوکرین کے عوام کے مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔
سابق صدارتی ترجمان کے مطابق زیلنسکی کی جانب سے پیش کیے جانے والے بیانیے میں مسلسل ایک ایسی شخصیت کو نمایاں کیا جاتا ہے جو کبھی نہیں سوتی، مسلسل گفتگو کرتی ہے، مشکلات برداشت کرتی ہے اور ہر صورتحال میں پُرامید رہتی ہے۔
یولیا مینڈل نے کہا کہ اس بیانیے میں جنگ سے متاثرہ ملک یوکرین اور اس کے عوام کو درپیش حقیقی مشکلات کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جس کی موجودہ حالات میں ضرورت ہے۔
انہوں نے صدر زیلنسکی کے بعض میڈیا بیانات کی صداقت پر بھی سوال اٹھایا۔
خصوصاً زیلنسکی کے اس دعوے پر کہ انہوں نے رات کے وقت یوکرینی فضائی دفاعی نظام کے اہلکاروں سے بات چیت کی تھی، یولیا مینڈل نے طنزیہ انداز میں کہا کہ انہیں امید ہے کہ متعلقہ فضائی دفاعی اہلکاروں کو بھی معلوم ہوگا کہ صدر نے ان سے گفتگو کی تھی۔
یولیا مینڈل کے ان بیانات کو یوکرینی صدر کی میڈیا حکمت عملی اور عوامی رابطوں کے انداز پر تنقید کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ یولیا مینڈل ماضی میں صدر زیلنسکی کی ترجمان رہ چکی ہیں اور ان کے ساتھ براہ راست کام کرنے کا تجربہ رکھتی ہیں۔
سابق ترجمان کی جانب سے سامنے آنے والی یہ تنقید ایسے وقت میں کی گئی ہے جب یوکرین میں جنگ جاری ہے اور ملک کو سلامتی، معیشت اور بنیادی ڈھانچے سمیت متعدد شعبوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
یولیا مینڈل کے الزامات اور صدر زیلنسکی کی فوجی اہلکاروں سے مبینہ گفتگو سے متعلق دعووں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ فراہم کردہ رپورٹ میں یوکرینی صدر یا ان کے دفتر کا ردعمل شامل نہیں ہے۔









