اقوام متحدہ کے نئے سیکریٹری جنرل کے انتخاب سے مغربی بالادستی کے خاتمے کی امید ہے، روسی وزارت خارجہ

ماسکو: (وائس آف رشیا) روس نے امید ظاہر کی ہے کہ اقوام متحدہ کے نئے سیکریٹری جنرل کے انتخاب سے عالمی ادارے کے سیکریٹریٹ میں مغربی ممالک کی بالادستی، پس پردہ فیصلوں اور سیاسی دباؤ کے خاتمے کی راہ ہموار ہوگی۔ روسی وزارت خارجہ نے اقوام متحدہ کے موجودہ انتظامی نظام پر تنقید کرتے ہوئے ادارے میں بنیادی اصلاحات اور ترقی پذیر ممالک کے کردار کو مضبوط بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

24 اکتوبر کو اقوام متحدہ کے عالمی دن کے موقع پر روسی وزارت خارجہ کے شعبہ بین الاقوامی تنظیموں کے ڈائریکٹر کریل لوگوینوف نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر جاری بیان میں کہا کہ اقوام متحدہ کو اس وقت سنگین انتظامی اور ادارہ جاتی مسائل کا سامنا ہے، جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

روسی سفارت کار نے کہا کہ اقوام متحدہ کے کام میں اجتماعی فیصلہ سازی کی روایت بحال کرنا، اس کے منشور کے تمام اصولوں پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانا اور عالمی ادارے کے طریقہ کار کو موجودہ کثیر قطبی عالمی نظام کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ضروری ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ پس پردہ سیاسی معاملات اور خفیہ سمجھوتوں کے بجائے دیانت دارانہ اور باہمی احترام پر مبنی مذاکرات کو فروغ دیا جائے۔

کریل لوگوینوف کے مطابق اقوام متحدہ میں گلوبل ساؤتھ، یعنی ترقی پذیر ممالک کی آواز کو زیادہ مؤثر بنانا اور سیکریٹریٹ کو مغربی ممالک کے سیاسی تسلط سے آزاد کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ روس کو اس حوالے سے اقوام متحدہ کے نئے سیکریٹری جنرل کے انتخاب سے خصوصی امیدیں وابستہ ہیں۔

روسی وزارت خارجہ کے اعلیٰ عہدیدار نے اقوام متحدہ کی موجودہ صورتحال کو ایک گہرے نظامی بحران سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ ادارے کے سیکریٹریٹ کی سرگرمیوں میں سیاسی مداخلت اور فیصلہ سازی کے عمل میں غیر ضروری بیوروکریسی بڑھ رہی ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ اقوام متحدہ کے بجٹ کے غیر مؤثر استعمال، رکن ممالک کے داخلی معاملات میں مداخلت اور مخصوص سیاسی و نظریاتی ایجنڈے کو فروغ دینے کے رجحانات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

روسی سفارت کار کے مطابق بعض ممالک اقوام متحدہ کو مشترکہ عالمی مسائل کے حل کے لیے استعمال کرنے کے بجائے اپنے محدود قومی اور سیاسی مفادات کو آگے بڑھانے کا ذریعہ بنانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان رجحانات کے نتیجے میں عالمی ادارے کی ساکھ اور مؤثریت کو نمایاں نقصان پہنچ رہا ہے۔

کریل لوگوینوف نے واضح کیا کہ روس اقوام متحدہ کے وقار، عالمی حیثیت اور مؤثر کردار کی مکمل بحالی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا تاکہ ادارہ بین الاقوامی امن، سلامتی اور تعاون کے فروغ میں اپنی صلاحیتوں کو بھرپور انداز میں استعمال کر سکے۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے موجودہ سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی مدتِ عہدہ 31 دسمبر 2026 کو ختم ہو رہی ہے۔ وہ 2017 سے اس منصب پر فائز ہیں۔

نئے سیکریٹری جنرل کے انتخاب کے طریقہ کار کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کسی امیدوار کی سفارش کرے گی، جس کے بعد جنرل اسمبلی باضابطہ طور پر نئے سیکریٹری جنرل کا انتخاب کرے گی۔

روسی نائب وزیر خارجہ الیگزینڈر علیموف اس سے قبل واضح کر چکے ہیں کہ ماسکو کسی مخصوص امیدوار کی حمایت یا ترجیح کا اعلان نہیں کر رہا۔

ان کے مطابق روس کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ نیا سیکریٹری جنرل پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا حامل اور سیاسی طور پر غیر جانبدار ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں