روس میں پٹرول پمپوں پر ایندھن کی فراہمی بہتر، متعدد آئل ریفائنریاں بحالی کے بعد دوبارہ فعال

ماسکو(وائس آف رشیا): روس کے نائب وزیر اعظم الیگزینڈر نوواک نے کہا ہے کہ ملک بھر میں پٹرول پمپوں پر ایندھن کی فراہمی کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے، کیونکہ متعدد آئل ریفائنریاں مرمت اور دیکھ بھال کا کام مکمل کرنے کے بعد دوبارہ پیداوار شروع کر چکی ہیں، جس سے رسد اور طلب کے درمیان توازن بہتر ہوا ہے۔

روسی اخبار ازویستیا کے مطابق الیگزینڈر نوواک نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، “صورتحال بتدریج مستحکم ہو رہی ہے۔ کئی ریفائنریاں دوبارہ کام شروع کر چکی ہیں، جس کے باعث رسد اور طلب میں بہتر توازن قائم ہوا ہے۔ پٹرول پمپوں پر ایندھن کی دستیابی میں نمایاں بہتری آئی ہے، خاص طور پر زرعی شعبے کی ضروریات بھی بہتر انداز میں پوری کی جا رہی ہیں۔”

انہوں نے کہا کہ شمالی علاقوں کو ایندھن کی فراہمی بھی مکمل طور پر یقینی بنائی جا رہی ہے، جبکہ تیل کمپنیاں اور عمودی طور پر مربوط (Vertically Integrated) کمپنیاں مطلوبہ مقدار میں ایندھن کی مسلسل ترسیل جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اس سے قبل 8 جولائی کو روسی صدر ولادیمیر پوتن نے حکومتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک میں ایندھن کی فراہمی میں پیش آنے والی مشکلات عارضی نوعیت کی ہیں اور روس کا توانائی کا شعبہ ایسے چیلنجز سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

الیگزینڈر نوواک کی رپورٹ کے مطابق یوکرینی حملوں کے نتیجے میں بعض آئل ریفائنریوں کی پیداوار جزوی طور پر متاثر ہوئی تھی، تاہم اب صورتحال کافی حد تک مستحکم ہو چکی ہے۔

روسی حکومت نے اس دوران پٹرول اور ڈیزل کی برآمدات پر عارضی پابندی عائد کر رکھی ہے، جبکہ جولائی سے پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد بھی شروع کیے جانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے تاکہ اندرونِ ملک طلب پوری کی جا سکے۔

نوواک نے اس سے قبل میڈیا کو بتایا تھا کہ روس نے ملکی ضرورت پوری کرنے کے لیے وافر مقدار میں ایندھن ذخیرہ کر رکھا ہے، تاہم بعض علاقوں میں خوف کے باعث غیر معمولی خریداری کی وجہ سے طلب میں 20 سے 30 فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ان کے مطابق موجودہ ضروریات کے مطابق ایندھن کی ترسیل کے نظام کو مکمل طور پر ہم آہنگ کرنے میں کچھ وقت درکار ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں