ماسکو (شاہد گھمن سے): روس کے دارالحکومت ماسکو میں شاعرِ مشرق، مفکرِ پاکستان اور عظیم فلسفی علامہ محمد اقبال کا 139واں یومِ پیدائش خصوصی ادبی تقریب کے ساتھ منایا گیا، جس میں روس کی ممتاز جامعات کے طلبہ و طالبات نے اردو زبان میں کلامِ اقبال پیش کرکے عظیم شاعر کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ تقریب کا انعقاد روسی اسٹیٹ یونیورسٹی فار دی ہیومینٹیز میں کیا گیا، جہاں روسی نوجوانوں کی اردو زبان، پاکستانی ادب اور علامہ اقبال کی شاعری سے گہری دلچسپی نمایاں رہی۔
تقریب میں روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے خصوصی شرکت کی، جبکہ علامہ اقبال کے پوتے سینیٹر ولید اقبال اور نواسے میاں اقبال صلاح الدین نے آن لائن شرکت کی۔ اس موقع پر علامہ اقبال کی شخصیت، ان کے فکری و ادبی ورثے اور موجودہ عالمی حالات میں ان کے پیغام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔

تقریب کا سب سے نمایاں اور منفرد پہلو ماسکو کے مختلف تعلیمی اداروں میں اردو زبان اور جنوبی ایشیائی ادب کی تعلیم حاصل کرنے والے روسی طلبہ و طالبات کی شرکت تھی۔ روسی نوجوانوں نے علامہ اقبال کی نظمیں اور منتخب کلام اردو زبان میں پیش کیا، جبکہ بعض طلبہ نے شاعرِ مشرق کی شخصیت، شاعری اور ان کے افکار کے مختلف پہلوؤں پر اظہارِ خیال بھی کیا۔
تقریب میں روسی اسٹیٹ یونیورسٹی فار دی ہیومینٹیز کے علاوہ ماسکو اسٹیٹ انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز (MGIMO)، ہائر اسکول آف اکنامکس اور ماسکو اسٹیٹ یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔ ان تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والے روسی نوجوانوں نے اردو زبان میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے علامہ اقبال کا کلام پیش کیا، جسے حاضرین نے خصوصی دلچسپی سے سنا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سفیر پاکستان فیصل نیاز ترمذی نے علامہ اقبال کی ادبی اور فکری خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا اور روسی طلبہ و طالبات کی اردو زبان اور پاکستانی ادب میں دلچسپی کو خوش آئند قرار دیا۔
پاکستانی سفیر نے کہا کہ ان کے لیے یہ باعثِ افتخار ہے کہ علامہ اقبال کے خاندان کی دو اہم شخصیات، ان کے پوتے سینیٹر ولید اقبال اور نواسے میاں اقبال صلاح الدین نے بھی اس خصوصی ادبی محفل میں شرکت کی۔ انہوں نے تقریب میں روسی نوجوانوں کی بھرپور شرکت کو پاکستان اور روس کے درمیان علمی و ثقافتی روابط کے حوالے سے حوصلہ افزا قرار دیا۔

فیصل نیاز ترمذی کے مطابق تقریب کی سب سے خوش آئند بات یہ تھی کہ ماسکو کی ممتاز درسگاہوں کے روسی طلبہ و طالبات نے نہ صرف علامہ اقبال کے بارے میں گفتگو کی بلکہ ان کی شاعری بھی اردو زبان میں پیش کی۔ انہوں نے اس امر کو خصوصی اہمیت دی کہ روسی نوجوان اردو زبان سیکھنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے عظیم ادبی ورثے کا مطالعہ بھی کررہے ہیں۔
سفیر پاکستان نے علامہ اقبال کے پیغام کی عصری اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں ان کے افکار ایک مرتبہ پھر عالمی سطح پر توجہ حاصل کررہے ہیں۔ دنیا ایک نئی کروٹ لے رہی ہے اور ایسے حالات میں اقبال کے فلسفے اور ان کی شاعری کو دنیا بھر میں نئے زاویوں سے پڑھا اور سنا جارہا ہے۔

انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ علامہ اقبال کی فکر محض کسی ایک ملک یا خطے تک محدود نہیں بلکہ ان کی شاعری اور فلسفہ عالمی سطح پر علمی اور فکری مباحث کا حصہ ہیں۔ ماسکو میں روسی طلبہ کی جانب سے اردو میں کلامِ اقبال پیش کرنا بھی ان کے ادبی ورثے کی بین الاقوامی اہمیت کی عکاسی کرتا ہے۔
تقریب میں علامہ اقبال کے پوتے سینیٹر ولید اقبال نے آن لائن شرکت کرتے ہوئے اپنے دادا کے فکری اور ادبی ورثے سے متعلق دنیا بھر میں جاری علمی سرگرمیوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران مختلف ممالک کی متعدد جامعات میں علامہ اقبال کی شخصیت، شاعری اور فلسفے کے حوالے سے سیمینارز اور علمی نشستوں کا انعقاد کیا گیا ہے۔

ولید اقبال نے عالمی تعلیمی اداروں میں اقبال کے افکار پر ہونے والی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے ان کی فکر میں بین الاقوامی دلچسپی کی اہمیت اجاگر کی۔ ان کے مطابق مختلف جامعات میں اقبال کے حوالے سے منعقد ہونے والے پروگرام اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ان کا فکری ورثہ آج بھی علمی حلقوں میں زیرِ بحث ہے۔
علامہ اقبال کے نواسے میاں اقبال صلاح الدین نے بھی آن لائن تقریب میں شرکت کی۔ علامہ اقبال کے خاندان کی ان دونوں شخصیات کی شرکت نے ماسکو میں منعقدہ ادبی اجتماع کو خصوصی اہمیت دی اور روسی طلبہ کو شاعرِ مشرق کے فکری ورثے سے متعلق ایک منفرد علمی موقع فراہم کیا۔

تقریب میں اردو زبان کی تعلیم حاصل کرنے والے روسی طلبہ و طالبات نے کلامِ اقبال کی پیشکش کے ذریعے یہ ظاہر کیا کہ روس کے تعلیمی اداروں میں پاکستانی زبان و ادب کا مطالعہ نہ صرف جاری ہے بلکہ نوجوان نسل بھی اس میں دلچسپی لے رہی ہے۔ روسی نوجوانوں کی جانب سے اردو تلفظ کے ساتھ اقبال کی نظمیں پیش کرنا اس ادبی اجتماع کا مرکزی حصہ رہا۔
اس موقع پر علامہ اقبال کی شاعری کے مختلف موضوعات اور ان کے فکری پیغام پر بھی گفتگو ہوئی۔ مقررین نے شاعرِ مشرق کی ادبی خدمات اور عالمی سطح پر ان کے افکار کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

سفیر پاکستان فیصل نیاز ترمذی نے تقریب کے انعقاد پر میزبان یونیورسٹی کی انتظامیہ، اساتذہ، پاکستانی کمیونٹی اور شریک روسی طلبہ و طالبات کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے روسی نوجوانوں کی بڑی تعداد میں شرکت اور اردو میں کلامِ اقبال پیش کرنے کو خصوصی طور پر سراہا۔
ماسکو میں علامہ اقبال کے یومِ پیدائش کی مناسبت سے منعقدہ یہ ادبی اجتماع پاکستان اور روس کے درمیان تعلیمی، ادبی اور ثقافتی روابط کی ایک نمایاں مثال بن کر سامنے آیا۔ تقریب نے اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ علامہ اقبال کی شاعری اور ان کا فکری ورثہ پاکستان سے باہر بھی علمی دلچسپی کا موضوع ہے اور روسی جامعات میں اردو زبان سیکھنے والے نوجوان اس ورثے سے براہِ راست روشناس ہورہے ہیں۔
روسی طلبہ و طالبات کی جانب سے اردو میں کلامِ اقبال کی پیشکش اس تقریب کی سب سے اہم خصوصیت رہی، جس نے شاعرِ مشرق کی یاد میں منعقدہ محفل کو پاکستان اور روس کے عوام کے درمیان ادبی و ثقافتی ہم آہنگی کی خوبصورت علامت بنا دیا۔









