وزیراعظم شہباز شریف کے مجوزہ دورۂ روس کی تیاریاں، پاکستان کی 148 کمپنیوں اور 169 نمائندوں کی فہرست تیار، روسی کاروباری اداروں کو بھی دعوت

ماسکو (شاہد گھمن سے): وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف کے دسمبر کے پہلے ہفتے میں متوقع دورۂ روس کے سلسلے میں ماسکو میں پاکستان روس بزنس فورم اور دونوں ممالک کے کاروباری اداروں کے درمیان براہ راست تجارتی ملاقاتوں کی تیاریاں جاری ہیں۔ اس سلسلے میں پاکستانی سفارت خانے کے ٹریڈ ونگ سے متعلق دو تفصیلی فہرستیں سامنے آئی ہیں، جن میں پاکستان کی 148 کمپنیوں کے 169 نمائندوں کی تفصیلات اور روسی کاروباری اداروں کو بی ٹو بی ملاقاتوں کے لیے مدعو کرنے کی معلومات شامل ہیں۔

وائس آف رشیا کو دستیاب دستاویزات کے مطابق پاکستانی کمپنیوں کی فہرست میں کاروباری اداروں کے نام، نمائندوں کی ذمہ داریاں، متعلقہ صنعتیں اور برآمدی کارکردگی کی تفصیلات درج ہیں، جبکہ روسی کمپنیوں کی فہرست میں اداروں کے نام، کاروباری شعبے اور متعلقہ رابطہ شخصیات شامل ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف کے متوقع دورۂ ماسکو کے دوران روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ ملاقات اور دوطرفہ اقتصادی تعاون پر بات چیت بھی متوقع ہے۔ پاکستانی میڈیا کی حالیہ رپورٹس کے مطابق وزیراعظم کے ہمراہ ایک بڑا کاروباری وفد روس جانے کا امکان ہے اور ماسکو میں مشترکہ بزنس فورم کا پروگرام بھی زیر غور ہے۔

پاکستان کی 148 کمپنیوں کی شعبہ وار تفصیلات

پاکستانی کمپنیوں کی تصدیق شدہ فہرست میں سب سے زیادہ نمائندگی ٹیکسٹائل اور چمڑے کی صنعت کی ہے، جس کی 59 کمپنیاں شامل ہیں۔ زرعی و غذائی مصنوعات کی 23، سیاحت کی 15، کھیلوں کے سامان کی 13، کٹلری کی 10، معدنیات کی 6، لاجسٹکس کی 5، جراحی آلات کی 5، انفارمیشن ٹیکنالوجی کی 4، آٹوموٹیو، دھاتوں اور پلاسٹک کی صنعتوں کی دو دو، جبکہ ادویات اور کیمیکلز کی ایک ایک کمپنی فہرست کا حصہ ہے۔

ٹیکسٹائل اور چمڑے کی صنعت سے پاکستانی کاروباری شخصیات

پاکستانی فہرست میں مرکری پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو محمد یوسف آصف، لاہور کارپٹ مینوفیکچرنگ کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر شاہد حسن شیخ، فائن گارمنٹس انڈسٹریز کے ڈائریکٹر جنید اکرام، راج بی انڈسٹریز کے ڈائریکٹر مسعود نقی، اشرف انڈسٹریز کے منیجنگ ڈائریکٹر اعجاز کھوکھر اور بلال اپیرل کے چیف ایگزیکٹو محمد بلال احمد کے نام شامل ہیں۔

اسی شعبے میں کوبیجا انڈسٹریز کے ابرار حسین، ایمان ہوم ٹیکسٹائل کے عبداللہ شاہد، اے جے ایسوسی ایٹس کے جاوید احمد خان اور تائیگا اپیرل کے محمد نعمان عثمان بھی شامل ہیں۔

دیگر کاروباری ناموں میں زینب اینڈ کمپنی کے اکرام الحق، ثمینہ انٹرنیشنل کے محمد طلحہ، ایس ٹی اے لیدر پروڈکٹس کے سید تنظیم اے کاظمی، فتح انڈسٹریز کے فراز عالم، جے اینڈ ایس ٹائم لیس لیدر کی جیا این صادق، حسن زیڈ بی انٹرنیشنل کے حسن علی بھٹی اور سہیل لیدر کمپنی کے کاشف سہیل شامل ہیں۔

فہرست میں سیفائر فائبرز کے محمد امجد حسین، ونٹیج ویئر کے اسد ایوب خان، ڈبلیو برادرز کے وقاص افضل اور بیئرپا پروڈکٹس انٹرنیشنل کی غزالہ ابرار کے نام بھی موجود ہیں۔

روس کی بڑی ٹیکسٹائل اور ریٹیل کمپنیوں کے نمائندے

روسی دعوتی فہرست میں معروف گارمنٹس برانڈ گلوریا جینز کی لیزا لم، اوستن کے دیمتری واکولینکو، ایکس فائیو گروپ کے میخائل سفاروف اور آشان کے پیئر کارڈیلی شامل ہیں۔

اسی طرح گپفل کی نتالیا وولکووا، کاروان کووروف کے نصرالدین محمودوف، اسٹاک مین کے یاکوف پانچینکو، بونی ستروئے کے الیکسی بیریزین، لوگسناب کی اولگا ستیلماخ اور مدینہ کی مدینہ صابر جان کو بھی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

روسی کمپنیوں کے ساتھ ممکنہ کاروباری ملاقاتوں میں پاکستانی تیار ملبوسات، ڈینم، گھریلو ٹیکسٹائل، قالینوں اور چمڑے کی مصنوعات کی برآمدات بڑھانے کے امکانات زیر بحث آ سکتے ہیں۔

غذائی مصنوعات، چاول، پھل اور سبزیاں

پاکستانی فہرست میں زرعی اور غذائی مصنوعات سے متعلق 23 کمپنیاں شامل ہیں۔ ان میں ایف آر انٹرنیشنل کے عادل محمود، ایم ایس تاج انٹرنیشنل کے محمد عمران خان، صادق جیلاٹن انڈسٹریز کے محمد عمیر ارشد، ایکوا پرل کے عامر علی گابا، گل برادرز کے احمد گل کاکڑ اور خادم انڈسٹری کے تیمور اکبر کے نام شامل ہیں۔

روسی کمپنیوں میں گرینڈ ٹریڈ کے الیگزینڈر بیلیاشوف، آئی پی خاشمی کے آصف علی خاشمی، آستارا ایگروٹریڈنگ کے سامویل باغداساریان، ایس ٹی ایل کے آندرے کوزین، انویسٹ اپات کے الیگزینڈر دوبریتسکی اور روسین یونین آف فلور ملنگ اینڈ سیریل انٹرپرائزز کے ایگور سویریدینکو درج ہیں۔

اس کے علاوہ بیل پاک ٹریڈنگ ہاؤس کے محمد ذماد خان، وستوک زاپاد کی ویرا پاولووا، مار روسیا کے الیکسی ششکن، چیرنوگولووکا کی وکٹوریہ بابایان، تولسکایا نیوا کی اناستاسیا سوکولووا، ایگرو ایکسپورٹ کے میکسم چیکوف اور باراکا کے رسلان صابیروف بھی فہرست میں شامل ہیں۔

روسی سپر مارکیٹ چینز ایکس فائیو گروپ، لینتا، گلوبس اور فریش مارکیٹ سے متعلق نمائندوں کے نام بھی مختلف غذائی شعبوں میں درج ہیں۔

سی فوڈ اور پاکستانی گلابی نمک

منجمد مچھلی اور سمندری خوراک کے شعبے میں روسی کمپنی مورے اوڈور کے ڈینس خیلڈمان، تولیمان کے ولادیمیر گورباچیف، انٹیگریٹی گروپ کے تیمور یفیموف، فارچیون کے ستانیسلاو چیرنیخوفسکی، ٹریڈ ہاؤس میگنیٹوگورسک کے ڈینس بائیکن اور پیچینیگا کے ویلیری دیمینیوک کے نام درج ہیں۔

پاکستانی گلابی نمک سے متعلق کاروباری رابطوں کے لیے آستارا ایگروٹریڈنگ کی لیودمیلا ترسونوا اور خادم انڈسٹری کی اناستاسیا بولگا بھی روسی فہرست میں شامل ہیں۔

کھیلوں کے سامان کی صنعت

پاکستانی کمپنیوں میں سونیکو پرائیویٹ لمیٹڈ کے سعد آصف سونی، سنی انڈسٹریز کے ارسلان شیخ، آر کے انڈسٹریز کے جواد خالد اور ٹروئے اسپورٹس کے محمد بلال سمیت دیگر کاروباری نمائندوں کے نام درج ہیں۔

روسی کاروباری اداروں کی دعوتی تفصیلات میں اسپورٹ ماسٹر کی تاتیانا کلیمینا، اسٹنگ کے عبدالرحمان، اسپورٹ پروڈکٹس کی نتالیا کسلیاکووا، میلاد امپیکس کے محمد ارشد بٹ، پرائم اسپورٹ کی یکاترینا میلنیکووا، ٹی ڈی آریانز کے عادل منصور آرائیں اور ٹوکیڈو شاپ کے کونسٹنٹن کوزلوف کے نام سامنے آئے ہیں۔

جراحی آلات اور ادویات

پاکستان کی جراحی آلات کی صنعت سے پانچ کمپنیوں کے نام تصدیق شدہ فہرست میں موجود ہیں، جبکہ روسی دعوتی تفصیلات میں شانز کے الیگزینڈر شیستاکوف، وی آئی ٹی کے میکسم پروخوروف، کٹ ویل پروفیشنل کے وسیم عباس، بیوٹی انسٹرومنٹ کے محمد عارف اور ایلٹا کی الیگزینڈرا شینینا کے نام شامل کیے گئے ہیں۔

ادویات کے شعبے میں آرٹیکس کے افتخار سرور، سیلسس کے نکیتا نکولائیف، انٹرسین پلس کی داریا تاراسووا، ارجنٹم لیبارٹری کے الیگزینڈر سولوویوف اور فارم اسٹینڈرڈ کی اولگا کورنییوا کے نام بھی کاروباری رابطوں کی تفصیلات میں موجود ہیں۔

لاجسٹکس اور بین الاقوامی ٹرانسپورٹ

پاکستانی فہرست میں لاجسٹکس کی پانچ کمپنیاں شامل ہیں، جن میں مومینٹم لاجسٹکس کے چیف ایگزیکٹو افتخار ایچ بٹ بھی شامل ہیں۔

روسی دعوتی فہرست میں فیسکو کے سرگئی سیدوروف، سیم انویسٹ کے شامل مرتضالییف، ای ٹی ای کی نتالیا سادچیکووا، جی ٹی ای ایل کے ڈینس کالنوف، بیورو آف کسٹمز سروسز کی نتالیا گروسمن، ایویاتیک سروس کے وکٹر نیشکوف اور ایم بی ایف ایس کے سرگئی کوتینیف کے نام موجود ہیں۔

پاکستان اور روس کے درمیان تجارتی حجم بڑھانے کے لیے سمندری راستوں، ریلوے رابطوں، کسٹمز کلیئرنس، ترسیلی اخراجات اور ادائیگیوں کے نظام سے متعلق عملی تعاون کو اہمیت حاصل ہے۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی اور جدید خدمات

پاکستان کی آئی ٹی کمپنیوں میں ٹی ایم سی پرائیویٹ لمیٹڈ کے عبدالحسیب، سائبرڈ کے محمد شمون حیدر، اباؤٹ ڈیجیٹل کے محمد سلمان ناصر اور الفا ریجز کے خاکان علی کے نام شامل ہیں۔

روسی کمپنیوں میں سائبرس فاؤنڈیشن کے میکائیل پیرجانیان، اسکولکووو کی انا موروز، لیتھوسفیئر کی ژانا پولتاویتس، نیکس ٹچ کے الیکسی روگاتنیف، نیکا سافٹ کے ایگور یاتسینکو، اکتیو سافٹ کے تیموفی ماترینیتسکی، آئی ٹی گلوبل کے اولیگ آرسینییف، ایگرو کنیکٹ کے میکسم ریژوف اور آئی ٹی ایف کنسلٹنگ کے میخائل اوکونیف کے نام شامل ہیں۔

سیاحت اور عوامی روابط

پاکستانی فہرست میں سیاحت کے شعبے کی 15 کمپنیاں شامل ہیں، جن میں ہنزہ گائیڈز پاکستان ٹریکنگ اینڈ ٹورز کے ذیشان احمد کا نام بھی موجود ہے۔

روسی جانب سے ایسوسی ایشن آف ٹور آپریٹرز آف رشیا کے آرتھر مرادیان، ٹریس ٹی کی یکاترینا بیلووا، ان ٹورسٹ کی ویرا گونچارینکو، آرٹ ٹور کے دیمتری آروتیونوف، اشتیاق ہمدانی اور القاسم کمیونٹی ہال اینڈ گیسٹ ہاؤس راولاکوٹ کے حامد علی مسعود کے نام درج ہیں۔

پاک روس تجارت میں نئے امکانات

پاکستانی اور روسی کمپنیوں کی فہرستوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ مجوزہ بزنس فورم میں روایتی درآمدات اور برآمدات کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی، سیاحت، ٹرانسپورٹ، صنعتی تعاون اور مشترکہ کاروباری منصوبوں کے امکانات کو بھی اہمیت دی جا رہی ہے۔

پاکستانی سفارت خانے کے ٹریڈ ونگ کی جانب سے تیار کردہ کاروباری رابطوں کی فہرستیں دونوں ممالک کی کمپنیوں کو براہ راست مذاکرات کے لیے ایک ممکنہ پلیٹ فارم فراہم کرتی ہیں۔

تاہم پاکستانی کمپنیوں کی تصدیق شدہ فہرست اور روسی کمپنیوں کی دعوتی فہرست کی حیثیت الگ ہے۔ ان میں درج تمام افراد کی ماسکو آمد، وزیراعظم کے سرکاری وفد میں شمولیت یا کسی تجارتی معاہدے پر دستخط کی حتمی تصدیق ابھی سامنے نہیں آئی۔

وزیراعظم شہباز شریف کا متوقع دورۂ روس اور ماسکو میں پاکستان روس بزنس فورم دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات، سرمایہ کاری اور کاروباری تعاون کو مزید وسعت دینے کا اہم موقع ثابت ہو سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں