ماسکو (شاہد گھمن سے): پاکستان اور روس نے انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل اختراعات اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے، مشترکہ کاروباری منصوبے شروع کرنے اور دونوں ممالک کی منڈیوں تک رسائی بڑھانے کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے۔
اس سلسلے میں ماسکو کی یونیورسٹی آف ورلڈ سولائزیشنز اور پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ (PSEB) کے مشترکہ اہتمام سے پاکستان روس ویبینار سیریز کا تیسرا اجلاس منعقد ہوا، جس میں دونوں ممالک کے حکومتی عہدیداروں، سفارت کاروں اور ٹیکنالوجی کے ماہرین نے شرکت کی۔
اجلاس میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں مشترکہ منصوبوں، نئی منڈیوں تک رسائی، پیشہ ورانہ تربیت، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور پاکستان اور روس کی ضروریات کے مطابق مشترکہ تکنیکی حل تیار کرنے کے امکانات پر خصوصی توجہ دی گئی۔

پاکستان 2035 تک ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے کا خواہاں، احسن اقبال
ویبینار سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی توانائی، صنعت، سلامتی اور ٹیکنالوجی سمیت ترقی کے چار اہم ستونوں میں پیش رفت کی بنیادی قوت ہے۔
انہوں نے حکومت پاکستان کے اڑان پاکستان وژن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان 2035 تک اپنی معیشت کو ایک ٹریلین امریکی ڈالر تک پہنچانے کا ہدف رکھتا ہے، جس کے حصول میں جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل معیشت اور ہنرمند افرادی قوت اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
وفاقی وزیر نے پاکستان کی نوجوان آبادی اور تعلیم یافتہ افرادی قوت کو ملک کا اہم اثاثہ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 75 ہزار گریجویٹس تیار ہوتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان اور روس کے درمیان ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کے لیے نوجوان پیشہ ور افراد کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کی اہمیت اجاگر کی۔
پروفیسر احسن اقبال نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں پاکستان روس مشترکہ ورکنگ گروپ کے دوسرے اجلاس کا بھی حوالہ دیا اور ورلڈ اے آئی کوآپریشن آرگنائزیشن کے بانی ارکان کی حیثیت سے دونوں ممالک کے کردار کو اجاگر کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور روس کے درمیان تعلیمی، پیشہ ورانہ اور کاروباری روابط کو مضبوط بنانے کے لیے زبان کی رکاوٹیں دور کرنا بھی ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے روسی اور اردو زبانوں کے تدریسی پروگراموں کو فروغ دینے پر زور دیا گیا تاکہ دونوں ممالک کے ماہرین، طلبہ اور کاروباری اداروں کے درمیان رابطے مزید آسان ہو سکیں۔

روس کی نائب وزیر بیلا چرکیسووا کا پاکستان کے ساتھ ڈیجیٹل تعاون بڑھانے میں دلچسپی کا اظہار
ویبینار کے دوران ڈاکٹر روکسولانا زیگون نے روس کی نائب وزیر برائے ڈیجیٹل ترقی، مواصلات اور ذرائع ابلاغ بیلا چرکیسووا کا پیغام پڑھ کر سنایا۔
روسی نائب وزیر نے اپنے پیغام میں پاکستان کے ساتھ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کو مزید وسعت دینے میں روس کی دلچسپی کا اعادہ کیا۔
ان کے پیغام میں وزیراعظم محمد شہباز شریف کے ڈیجیٹل پاکستان وژن کا بھی حوالہ دیا گیا، جس کے مطابق پاکستان کا مقصد صرف ڈیجیٹل معیشت قائم کرنا نہیں بلکہ ایک مکمل ڈیجیٹل پاکستان کی تشکیل ہے۔
روس کی تکنیکی صلاحیتوں اور پاکستان کی نوجوان افرادی قوت سے مشترکہ فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، سفیر فیصل نیاز ترمذی
روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے ویبینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور روس مصنوعی ذہانت، ڈیٹا مینجمنٹ اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں ایک دوسرے کے تجربات اور صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
انہوں نے روس کی تقریباً 14 کروڑ 60 لاکھ آبادی اور ایک کروڑ 70 لاکھ مربع کلومیٹر پر پھیلے وسیع جغرافیائی رقبے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ روس کی جدید تکنیکی صلاحیتوں اور پاکستان کی نوجوان اور ہنرمند افرادی قوت کو یکجا کرکے دونوں ممالک کے لیے مفید مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
پاکستانی سفیر نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں پاکستان اور روس کے درمیان مشترکہ کاروباری منصوبوں کے قیام پر خصوصی زور دیا ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ وزیراعظم شہباز شریف کا آئندہ دورۂ روس دونوں ممالک کی ٹیکنالوجی کمپنیوں، تحقیقی اداروں اور سرمایہ کاروں کے درمیان براہ راست روابط بڑھانے کے نئے مواقع فراہم کرے گا۔
سفیر فیصل نیاز ترمذی کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کو عملی شکل دینے کے لیے مشترکہ منصوبوں اور کاروباری روابط کو فروغ دینا اہم ہے۔

مارکیٹ تک رسائی، پیشہ ورانہ تربیت اور ٹیکنالوجی کی منتقلی پر گفتگو
ویبینار میں پاکستان اور روس کی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان براہ راست کاروباری روابط، دونوں ممالک کی منڈیوں تک رسائی اور پیشہ ورانہ تربیت کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
شرکا نے ٹیکنالوجی کی منتقلی اور دونوں ممالک کی مارکیٹوں کی ضروریات کے مطابق مشترکہ تکنیکی حل تیار کرنے کے موضوعات پر گفتگو کی۔
اجلاس میں اس بات پر توجہ دی گئی کہ پاکستان اور روس کے آئی ٹی شعبوں کے درمیان تعاون کو محض حکومتی سطح کے رابطوں تک محدود رکھنے کے بجائے کاروباری اداروں، تحقیقی مراکز اور سرمایہ کاروں کے درمیان عملی اشتراک کی صورت دی جائے۔

بات چیت کو عملی منصوبوں میں تبدیل کرنے کی ضرورت، ڈاکٹر روکسولانا زیگون
ویبینار کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے اجلاس کی ناظم ڈاکٹر روکسولانا زیگون نے کہا کہ پاکستان اور روس کے درمیان ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کو پالیسی سطح کی گفتگو سے آگے بڑھا کر عملی روابط میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس نوعیت کے تبادلۂ خیال کی حقیقی اہمیت مشترکہ خیالات کو قابل عمل منصوبوں اور پائیدار کاروباری شراکت داریوں میں تبدیل کرنے میں ہے۔
ڈاکٹر روکسولانا زیگون نے پاکستان اور روس کے درمیان ٹیکنالوجی کے شعبے میں براہ راست روابط، مشترکہ منصوبوں اور طویل مدتی تعاون کو فروغ دینے کی اہمیت اجاگر کی۔









