ماسکو: (وائس آف رشیا): کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ یورپی یونین یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات کار مقرر کرنے کی بات تو مسلسل کر رہی ہے، لیکن اس سلسلے میں کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا جا رہا۔ ان کے مطابق یورپی یونین یا تو ایسا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی یا پھر اس کے پاس مطلوبہ سیاسی عزم موجود نہیں ہے۔
25 اکتوبر کو فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر اسٹب کو یوکرین تنازع پر یورپی یونین کے ممکنہ مذاکرات کار کے طور پر نامزد کیے جانے سے متعلق اطلاعات پر تبصرہ کرتے ہوئے دمتری پیسکوف نے کہا کہ یورپی یونین طویل عرصے سے مذاکراتی نمائندہ مقرر کرنے کی خواہش ظاہر کر رہی ہے، تاہم ابھی تک اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
کریملن کے ترجمان نے کہا کہ یورپی یونین یا تو مذاکرات کار مقرر نہیں کر سکتی یا پھر خود کو ایسا کرنے پر آمادہ نہیں کر پا رہی۔
انہوں نے یورپی یونین کے اس طرزِ عمل کو غیر تعمیری قرار دیتے ہوئے کہا کہ برسلز کی جانب سے فی الحال صرف باتیں کی جا رہی ہیں، جبکہ عملی اقدامات نظر نہیں آ رہے۔
دمتری پیسکوف نے واضح کیا کہ ماسکو یوکرین تنازع کے حوالے سے یورپی یونین کی جانب سے مذاکرات کار کی تقرری کی حمایت کرے گا۔
تاہم انہوں نے زور دیا کہ ایسے نمائندے کی تقرری ضروری ہے جو تنازع کے پُرامن حل میں حقیقی دلچسپی رکھتا ہو۔
کریملن کے ترجمان نے کہا کہ یورپی یونین کی جانب سے مذاکرات کار کا ہونا ایک مثبت پیش رفت ہوگی، لیکن اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ مقرر کیا جانے والا نمائندہ واقعی پُرامن تصفیے کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے سنجیدہ اور پُرعزم ہو۔









