امریکہ بھر میں “نو کنگز” احتجاج — 70 لاکھ افراد کی شرکت

نیویارک (وائس آف رشیا) امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف ملک گیر “نو کنگز” (No Kings) احتجاجی مظاہروں میں تقریباً 70 لاکھ افراد نے حصہ لیا۔ یہ مظاہرے امریکہ کی تاریخ کے سب سے بڑے پُرامن احتجاجی دنوں میں سے ایک قرار دیے جا رہے ہیں۔

منتظمین کے مطابق، مظاہروں کا مقصد “غیر متشدد انداز میں آمریت کے خلاف مزاحمت کرنا اور یہ پیغام دینا تھا کہ یہ ملک بادشاہوں کا نہیں بلکہ عوام کا ہے۔”

ان کے بیان میں کہا گیا کہ “آج کے دن 2,700 سے زائد شہروں اور قصبوں میں امریکی عوام متحد ہو کر اپنے بنیادی جمہوری حق کے اظہار کے لیے سڑکوں پر نکلے۔”

جون میں ہونے والے پچھلے “نو کنگز” مظاہروں کے مقابلے میں اس بار شرکاء کی تعداد دو ملین زیادہ رہی۔ اس سے قبل 14 جون کو — جو کہ ٹرمپ کی سالگرہ اور واشنگٹن میں فوجی پریڈ کا دن تھا — تقریباً 50 لاکھ افراد نے 2,100 شہروں میں مظاہرے کیے تھے۔

منتظمین کا کہنا ہے کہ یہ سلسلہ امریکہ میں جمہوریت، شہری آزادیوں اور عوامی خودمختاری کے تحفظ کے لیے جاری رہے گا۔

اسرائیلی حملوں میں غزہ میں 70 سے زائد فلسطینی شہید، مجموعی ہلاکتیں 65 ہزار سے متجاوز

بیروت(وائس آف رشیا) غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق گزشتہ چند گھنٹوں میں اسرائیلی فضائی اور زمینی حملوں میں کم از کم 77 فلسطینی شہید اور 265 زخمی ہوئے ہیں۔ وزارت نے بتایا کہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اب تک 65,926 افراد شہید اور 1 لاکھ 67 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

16 ستمبر کو اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے غزہ شہر پر بڑے پیمانے کی فوجی کارروائی کے آغاز کا اعلان کیا تھا جس کا مقصد حماس کو “حتمی شکست” دینا بتایا گیا۔ اسرائیلی فوج نے اس سے قبل بارہا شہریوں کو علاقے خالی کرنے کے لیے کہا اور فضائی پرچیاں بھی گرائیں۔

فلسطینی خبر ایجنسی “معان” کے مطابق ہزاروں افراد محفوظ انسانی راہداری المواسی کے علاوہ جنوبی شہروں رفح اور خان یونس کی طرف نقل مکانی کر گئے ہیں، تاہم غزہ شہر میں اب بھی تقریباً 9 لاکھ افراد محصور ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں