ماسکو میں رشین انرجی ویک فورم آج سے شروع ہوگیا

ماسکو (وائس آف رشیا)
روس کے دارالحکومت ماسکو میں عالمی سطح کا توانائی سے متعلق سالانہ فورم “رشین انرجی ویک” (Russian Energy Week) رواں ماہ 15 سے 17 اکتوبر 2025 تک منعقد ہوگا۔ یہ فورم روس کے ایندھن و توانائی کے شعبے، توانائی کے مؤثر استعمال اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ کے لیے سب سے بڑا پلیٹ فارم تصور کیا جاتا ہے۔

یہ ایونٹ روسی وزارتِ توانائی اور روسکانگرس فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام، ماسکو سٹی گورنمنٹ کی معاونت سے منعقد کیا جا رہا ہے۔
فورم کی تنظیمی کمیٹی کے سربراہ روسی نائب وزیرِ اعظم الیگزینڈر نوواک ہیں۔

فورم کی بنیاد روسی حکومت کے ایک فرمان کے ذریعے 27 ستمبر 2016 کو رکھی گئی تھی۔
پہلا روس انرجی ویک فورم 3 سے 7 اکتوبر 2017 کے دوران ماسکو اور سینٹ پیٹرزبرگ میں منعقد ہوا،
جس کی مرکزی نشست “انرجی فار گلوبل گروتھ” کے موضوع پر تھی، جس میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور وینیزویلا کے صدر نکولس مادورو سمیت 18 ممالک کے 25 وزراء اور 10 ہزار سے زائد مندوبین نے شرکت کی۔ اس موقع پر توانائی کے شعبے میں 18 اہم معاہدوں پر دستخط ہوئے۔

گزشتہ برس منعقد ہونے والا ساتواں روس انرجی ویک (2024) “کثیرالقطبی دنیا میں توانائی تعاون” کے موضوع پر ماسکو میں منعقد ہوا۔
اس موقع پر صدر پوتن اور اکویٹوریل گنی کے صدر تیودورو اوبیانگ نگوئما مباسوجو نے کلیدی اجلاس سے خطاب کیا۔
تقریب میں 81 ممالک سے 5 ہزار 300 سے زائد مندوبین شریک ہوئے،
جبکہ 50 سے زیادہ بڑی کمپنیوں نے اپنی نمائشوں میں جدید توانائی سازوسامان اور ٹیکنالوجی متعارف کرائیں۔
فورم کے دوران 28 تعاون کے معاہدے اور یادداشتیں طے پائیں۔

رواں برس کا ایونٹ بھی حسبِ روایت ماسکو کے مینیژ ایگزیبیشن ہال اور گوسٹینی دوور کمپلیکس میں منعقد کیا جائے گا،
جس میں توانائی کے عالمی مستقبل، نئی ٹیکنالوجی، ماحولیاتی استحکام اور بین الاقوامی شراکت داری کے نئے امکانات زیرِ بحث آئیں گے۔

صدر پوتن اور ٹرمپ کی ملاقات 15 اگست کو الاسکا میں‌ہوگی، کریملن کی تصدیق

ماسکو(وائس آف رشیا) کریملن نے باضابطہ اعلان کر دیا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 15 اگست کو امریکی ریاست الاسکا میں ایک تاریخی سربراہی ملاقات میں شریک ہوں گے۔ یہ ملاقات اس وقت ہو رہی ہے جب دنیا یوکرین جنگ، توانائی کے بحران، اور عالمی اقتصادی دباؤ جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔

الاسکا، جو روس اور امریکہ کے درمیان جغرافیائی اور تاریخی اہمیت رکھتا ہے، اس ملاقات کے لیے ایک علامتی مقام کے طور پر چنا گیا ہے۔ یہ وہ خطہ ہے جہاں سے محض چند گھنٹوں کی پرواز کے فاصلے پر روسی سرزمین شروع ہو جاتی ہے، اور جہاں سرد جنگ کے دور کی یادیں آج بھی تازہ ہیں۔

ملاقات کے ایجنڈے میں عالمی سلامتی، اسٹریٹجک ہتھیاروں میں کمی، توانائی کے وسائل کا استحکام، اور دوطرفہ تجارتی تعلقات کی بحالی جیسے اہم موضوعات شامل ہیں۔ تاہم سب سے اہم نکتہ یوکرین میں جاری جنگ اور اس کے حل کے امکانات ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق، ٹرمپ ممکنہ طور پر ایک جنگ بندی یا امن فارمولے کی تجویز پیش کر سکتے ہیں، جبکہ پوتن روس کے مؤقف کو براہِ راست بیان کرنے کا موقع حاصل کریں گے۔

امریکی اور روسی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ بات چیت رسمی سفارتی انداز کے بجائے ایک “کھلی اور سیدھی” گفتگو ہوگی تاکہ دونوں رہنما ایک دوسرے کے حقیقی ارادوں کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔ اس ملاقات کو عالمی میڈیا براہِ راست نشر کرے گا، اور یہ لمحہ دنیا بھر میں کروڑوں ناظرین کی توجہ کا مرکز بنے گا۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ یوکرین کا تنازع اس وقت عالمی سیاست کا سب سے بڑا فلیش پوائنٹ ہے، اور اگر پوتن-ٹرمپ ملاقات میں اس پر کوئی پیش رفت ہوئی تو یہ نہ صرف مشرقی یورپ بلکہ پوری دنیا میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتی ہے۔

پڑوسی ممالک میں مقیم ایک لاکھ 15 ہزار سے زائد شامی اپنے وطن لوٹ چکے ہیں، اقوام متحدہ

نیویارک (وائس آف رشیا) پڑوسی ممالک میں مقیم ایک لاکھ 15 ہزار سے زائد شامی اپنے وطن لوٹ چکے ہیں، اقوام متحدہ
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین نے اطلاع دی ہے کہ بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد پڑوسی ممالک میں مقیم ایک لاکھ 15 ہزار سے زائد شامی اپنے وطن واپس چلے گئے ہیں۔

UNHCR نے شامی پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے حوالے سے ایک تحریری بیان جاری کیا ہے۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ 8 دسمبر 2024 سے اب تک ایک لاکھ 15 ہزار سے زائد شامی پناہ گزین، ترکیہ، اردن اور لبنان جیسے ممالک سے شام واپس جا چکے ہیں۔

شامیوں کی واپسی سے متعلق تعداد کا تعلق، میزبان ممالک کی جانب سے عوامی اشتراک، شام میں نقل مکانی کی خدمات کے ساتھ رابطوں اور UNHCR اور اس کے شراکت داروں کے سرحدی مشاہدات پر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں