روس کا یوکرین کے فوجی صنعتی مراکز اور کیف کے اہم پل پر بڑے پیمانے پر حملہ، اوڈیسا کی بندرگاہوں کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ

ماسکو: (وائس آف رشیا) روسی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ روسی مسلح افواج نے رات کے دوران یوکرین کے فوجی صنعتی مراکز، دارالحکومت کیف کے ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر اور اوڈیسا ریجن کی بندرگاہوں پر بڑے پیمانے پر حملے کیے ہیں۔

روسی وزارت دفاع کے مطابق ان حملوں میں زمین سے داغے جانے والے انتہائی درست نشانہ بنانے والے ہتھیاروں اور ڈرونز کا استعمال کیا گیا۔

وزارت دفاع نے بتایا کہ حملوں میں یوکرین کے ان دفاعی کارخانوں کو نشانہ بنایا گیا جو طویل اور درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائلوں اور ڈرونز کی تیاری اور ذخیرہ کرنے میں مصروف تھے۔ اس کے علاوہ کیف میں ٹرانسپورٹ کی تنصیبات، اوڈیسا ریجن کی بندرگاہوں اور یوکرینی فوج کے لیے استعمال ہونے والے بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

روسی وزارت دفاع کے مطابق کیف میں واقع انتونوف اسٹیٹ انٹرپرائز کے طیارہ سازی اور اسمبلی پلانٹ پر حملہ کیا گیا، جہاں طویل اور درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز، ایف پی 5 فلیمنگو کروز میزائل اور ایف پی 9 آپریشنل ٹیکٹیکل میزائل تیار کیے جاتے تھے۔

وزارت دفاع نے بتایا کہ کیف میں ریفریجریٹنگ کمپلیکس نمبر 3 کے گودام کو بھی نشانہ بنایا گیا، جو طویل اور درمیانے فاصلے تک پرواز کرنے والے فکسڈ ونگ ڈرونز اور ہارنیٹ لوئٹرنگ گولہ بارود کی تیاری کے مرکز کے طور پر استعمال ہو رہا تھا۔

روسی فوج نے کیف میں ایک صنعتی تنصیب کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جہاں طویل اور درمیانے فاصلے تک پرواز کرنے والے فکسڈ ونگ ڈرونز اور روبوٹک نظام کے پرزے تیار کیے جاتے تھے۔

اس کے علاوہ کیف میں ڈرونز اور راکٹ بوسٹرز ذخیرہ کرنے والے ایک گودام کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

روسی وزارت دفاع کے مطابق روسی افواج نے کیف میں دریائے دنیپر پر واقع یوژنی روڈ اور ریلوے پل پر بھی حملہ کیا، جسے فوجی سامان کی نقل و حمل کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

اوڈیسا ریجن میں روسی فوج نے کیلیا بندرگاہ کی ان تنصیبات کو نشانہ بنایا جو بیرون ملک سے یوکرین کو فراہم کیے جانے والے فوجی سازوسامان کو اتارنے اور ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال ہوتی تھیں۔

روسی وزارت دفاع نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ روسی افواج نے سمندر میں ایک مال بردار بحری جہاز کو نشانہ بنایا، جو یوکرینی فوج کے لیے سامان لے کر چرنومورسک بندرگاہ کی جانب جا رہا تھا۔

دوسری جانب کیف کی شہری فوجی انتظامیہ نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر تصدیق کی ہے کہ یوژنی پل پر ٹریفک محدود کر دی گئی ہے۔

کیف کے میئر وٹالی کلچکو نے بھی بتایا کہ پل پر موجود میٹرو کے بنیادی ڈھانچے کے ایک حصے کو نقصان پہنچا ہے۔

یوکرینی خبر رساں ادارے اسٹرانا کے مطابق دریائے دنیپر پر یوژنی پل کی بندش اور ٹریفک پابندیوں کے باعث کیف میں شدید ٹریفک جام ہوگیا۔ ادارے نے گاڑیوں کی طویل قطاروں کی ویڈیوز بھی جاری کی ہیں۔

یوکرین کے وینیتسا ریجن کی انتظامیہ کی سربراہ نتالیا زابولوتنایا نے بھی ٹیلی گرام پر بتایا کہ علاقے میں صنعتی تنصیبات اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں