ماسکو: (شاہد گھمن) روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان معاہدہ ممکن ہے کیونکہ دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے کے انتہائی قریب ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ روس یوکرین تنازع کا پُرامن حل چاہتا ہے، تاہم اسے میدان جنگ میں شکست دینا یا اسٹریٹجک شکست سے دوچار کرنا ناممکن ہے۔
22 اکتوبر کو روسی نیوز چینل کو دیے گئے انٹرویو میں صدر پوتن نے کہا کہ روسی اور یوکرینی درحقیقت ایک ہی قوم ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان اختلافات مذاکرات کے ذریعے حل کیے جا سکتے ہیں۔
روسی صدر نے کہا کہ میرے خیال میں ہم ایک معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں اور ہم اس بات سے اتفاق کرتے ہیں۔
صدر پوتن نے یوکرین کے بعض علاقوں سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جن علاقوں کو یوکرین کے علاقائی نقصانات کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، وہ یوکرین نہیں بلکہ تاریخی روس کے علاقے ہیں۔
ان کے مطابق ان علاقوں کے رہائشیوں نے پہلے ریاستی آزادی کے حق میں ووٹ دیا اور بعد میں روسی فیڈریشن کے ساتھ دوبارہ اتحاد کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال میں علاقائی نقصانات کی بات کرنا مناسب نہیں۔
یورپی ممالک کی روس مخالف پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے صدر پوتن نے کہا کہ یورپ میں روس سے لاحق خطرات اور اس کے ساتھ ممکنہ جنگ کی تیاریوں سے متعلق مسلسل بیانات دیے جا رہے ہیں، جنہیں انہوں نے سیاسی شیزوفرینیا قرار دیا۔
روسی صدر نے واضح کیا کہ روس یورپ کے ساتھ کسی جنگ کا خواہاں نہیں اور نہ ہی ایسی کسی جنگ کی تیاری کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ روس کو میدان جنگ میں شکست دینا ناممکن ہے اور اسے اسٹریٹجک شکست پہنچانا بھی حقیقت پسندانہ ہدف نہیں۔
صدر پوتن کے مطابق تاریخ میں روس کو اسٹریٹجک شکست دینے کی کوشش کرنے والوں کو موجودہ عالمی حقائق کو سمجھنا چاہیے اور یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ روس کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھنا ان کے اپنے عوام کے مفاد میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ یورپ میں جاری سیاسی عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ یورپی ممالک کے عوام روس کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے۔
یوکرینی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے صدر پوتن نے کہا کہ موجودہ یوکرینی حکومت سمجھتی ہے کہ پوری دنیا کو اس کے لیے مالی وسائل فراہم کرنے، جنگ لڑنے اور ہتھیاروں، گولہ بارود اور فوجی سازوسامان کی فراہمی کی ذمہ داری اٹھانی چاہیے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض یورپی ممالک روس کو کمزور کرنے کے لیے اس کے خلاف جنگ چاہتے ہیں، جبکہ یوکرینی قیادت اپنے شہریوں کے ساتھ قابل استعمال وسائل جیسا سلوک کر رہی ہے۔
صدر پوتن نے دعویٰ کیا کہ یوکرین میں شہریوں کو سڑکوں سے پکڑ کر زبردستی محاذ جنگ پر بھیجا جا رہا ہے۔ انہوں نے سرکاری اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فوج سے فرار ہونے والے اہلکاروں کی تعداد پانچ لاکھ تک پہنچ چکی ہے، جبکہ تین لاکھ سے زائد فوجداری مقدمات درج کیے گئے ہیں۔
یوکرین تنازع کے پس منظر پر گفتگو کرتے ہوئے روسی صدر نے کہا کہ ماسکو ابتدا ہی سے اس مسئلے کے پُرامن حل کا حامی رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 2014 میں روس نے کیف کو اس وقت کے جنوب مشرقی یوکرین کے علاقوں کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے اختلافات حل کرنے میں مدد کی پیشکش کی تھی، تاہم ان کے بقول اس کے بجائے شہری آبادی کے خلاف توپ خانے اور جنگی طیاروں کا استعمال کیا گیا۔
صدر پوتن نے منسک معاہدوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ روس ہمیشہ یوکرین کے اس حصے کے ساتھ سیاسی اتفاق رائے پیدا کرنے کا خواہاں رہا جو حکومت کی تبدیلی سے متفق نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ روس آج بھی مذاکرات اور موجودہ پیچیدہ صورتحال کے حل کے لیے تیار ہے کیونکہ یوکرینی عوام روس کے انتہائی قریب ہیں۔
روسی صدر نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ روسی اور یوکرینی ایک ہی قوم ہیں اور تمام معاملات پر اتفاق رائے ممکن ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ روس ہر صورت اپنے مقاصد حاصل کرے گا اور خصوصی فوجی آپریشن کے تمام اہداف پورے کیے جائیں گے۔
امریکہ کے ساتھ حالیہ مذاکرات کے حوالے سے صدر پوتن نے بتایا کہ امریکی انتظامیہ کے نمائندے کے ساتھ روس، امریکہ اور یوکرین کے درمیان سہ فریقی رابطے دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان مذاکرات کا مقصد حتمی امن معاہدے کے بعد روس اور یوکرین دونوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے معاملات پر بات چیت کرنا ہوگا۔
روسی صدر نے واضح کیا کہ ماسکو مختصر مدت کے لیے جنگ بندی کے بجائے حتمی امن معاہدے کے تحت دونوں ممالک کی سلامتی کی ضمانتوں پر بات کرنا چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ روس اس مقصد کے حصول کے لیے سہ فریقی مذاکرات بحال کرنے پر تیار ہے۔
صدر پوتن کے مطابق امریکی انتظامیہ کے نمائندے نے بھی اس جانب توجہ دلائی کہ اگر روس اور یوکرین کی مستقبل کی سلامتی پر بات چیت کی جائے گی تو مجموعی طور پر یورپی سلامتی کے نظام اور اس کے ڈھانچے پر بھی گفتگو کرنا ضروری ہوگا۔
روسی صدر نے کہا کہ وہ اس مؤقف سے اتفاق کرتے ہیں اور آنے والے دنوں میں صورتحال کی پیش رفت دیکھی جائے گی۔









