ماسکو(وائس آف رشیا): روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے کہا ہے کہ ماسکو یوکرین تنازع کے حل کے لیے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم روس اس معاملے پر اپنے بنیادی اور اصولی مؤقف سے دستبردار نہیں ہوگا۔
سرگئی ریابکوف نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکی فریق نے اب تک تعمیری بات چیت اور روسی مؤقف کو سمجھنے کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم اب اہم سوال یہ ہے کہ واشنگٹن یوکرینی قیادت اور اس کے یورپی حامیوں کے فیصلوں پر کس حد تک اثر انداز ہوسکتا ہے۔
روسی نائب وزیر خارجہ کے مطابق یورپی ممالک میں اب بھی ایسے حلقے موجود ہیں جو روس کی اسٹریٹجک شکست کے خواہاں ہیں، اس لیے کسی بھی ممکنہ پیش رفت میں امریکا کے اثر و رسوخ کی عملی اہمیت ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے یوکرین تنازع کے حل کے لیے نئے خیالات اور تجاویز سامنے لانے کی ضرورت کا اظہار کیا ہے اور روس ایسی تجاویز سننے کے لیے تیار ہے۔
سرگئی ریابکوف کا کہنا تھا کہ اگر امریکا کی جانب سے تنازع کے حل کی کوششوں کے تحت نئی تجاویز پیش کی جاتی ہیں تو ماسکو ان پر بات چیت کے لیے تیار ہوگا۔
انہوں نے واضح کیا کہ واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کے لیے روس کے دروازے کھلے ہیں، تاہم مذاکرات پر آمادگی کا مطلب یہ نہیں کہ ماسکو اپنے بنیادی اور اصولی مؤقف کو ترک کردے گا۔
روسی نائب وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں وقت یوکرین اور یورپی یونین کے حق میں نہیں اور ان کے بقول کیف اور یورپی ممالک کو اس حقیقت کو مدنظر رکھنا ہوگا۔









