پاکستانی دھنوں پر روسی شہری بھی جھوم اٹھے، پنڈال جشنِ آزادی کے رنگوں میں ڈوب گیا

ماسکو(شاہد گھمن سے) روس کے دارالحکومت ماسکو میں پاکستان کے 79ویں یومِ آزادی کی مناسبت سے اپنی نوعیت کا ایک بڑا اوپن ایئر میوزیکل کنسرٹ منعقد ہوا، جس میں پاکستانی کمیونٹی، طلبہ، روسی شہریوں اور غیر ملکی مہمانوں سمیت تقریباً ایک ہزارسے زائد افراد نے شرکت کی۔ پاکستانی موسیقی، علاقائی ثقافت اور قومی نغموں سے سجی شام نے ماسکو کے میوزیم پارک میں پاکستان کے رنگ بکھیر دیے۔

تقریب میں روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی، دفاعی اتاشی آصف خان، قونصلر خالد سلمان، ڈپٹی ہیڈ آف مشن گیان ، منسٹر ٹریڈ شبانہ ممتاز چند سفارت خانے کے دیگر افسران، مختلف ممالک کے سفارتی مہمانوں کے علاوہ پاکستانی طلبہ اور نوجوانوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

تقریب کا آغاز سفیر پاکستان فیصل نیاز ترمذی کے خطاب سے ہوا۔ انہوں نے شرکا کو پاکستان کے یومِ آزادی کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان سے فنکار ماسکو آ کر اس سطح پر پاکستانی موسیقی اور ثقافت پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی آزادی کا جشن روسی دوستوں کے ساتھ مل کر منا رہا ہے اور ثقافتی روابط کے ذریعے پاکستان اور روس کے درمیان دوستی اور عوامی سطح پر تعلقات کو مزید آگے بڑھایا جائے گا۔

میوزیکل پروگرام کا باقاعدہ آغاز معروف وائلن نواز اور پرائیڈ آف پرفارمنس استاد رئیس خان نے پاکستان کے قومی ترانے کی دھن سے کیا۔ قومی ترانے کی دھن گونجتے ہی پنڈال میں موجود پاکستانیوں کا جوش دیدنی تھا۔

استاد رئیس خان نے اس کے بعد معروف قوالی “تاجدارِ حرم” کی دھن وائلن پر پیش کی، جبکہ “دل دل پاکستان” اور “جیوے جیوے پاکستان” کی دھنوں نے ماحول کو جشنِ آزادی کے رنگ میں رنگ دیا۔ شرکا نے ان کی پرفارمنس کو بھرپور داد دی اور قومی نغموں کے ساتھ اپنی محبت اور جوش کا اظہار کیا۔

تقریب میں پاکستان کی علاقائی ثقافت کی نمائندگی کرتے ہوئے روایتی خٹک ڈانس بھی پیش کیا گیا، جسے روسی اور غیر ملکی مہمانوں نے خصوصی دلچسپی سے دیکھا اور فنکاروں کو خوب داد دی۔

بعد ازاں پاکستان کے معروف ہائپر فوک میوزیکل گروپ خماریاں (Khumariyaan) نے اسٹیج سنبھالا تو کنسرٹ کا رنگ ہی بدل گیا۔ خماریاں نے پاکستان کے مختلف علاقوں اور ثقافتوں کی نمائندگی کرتے ہوئے پشتو، پنجابی، سندھی اور بلوچی سمیت مختلف علاقائی زبانوں اور موسیقی کے رنگ پیش کیے۔

خماریاں کی دھنوں پر پاکستانی نوجوانوں نے پنڈال میں خوب بھنگڑے ڈالے، جبکہ روسی شہری اور غیر ملکی مہمان بھی پاکستانی موسیقی کی دھنوں پر جھومتے نظر آئے۔ اوپن ایئر کنسرٹ میں ایک وقت ایسا بھی آیا جب اسٹیج کے سامنے موجود پاکستانی اور روسی شرکا ایک ساتھ موسیقی سے لطف اندوز ہوتے اور رقص کرتے دکھائی دیے۔

خصوصاً ماسکو اور روس کے مختلف شہروں میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ کی بڑی تعداد نے تقریب میں شرکت کی۔ نوجوان پاکستانی پرچم اٹھائے قومی نغموں اور علاقائی موسیقی پر جشن مناتے رہے اور پورا پنڈال پاکستان زندہ باد کے جذبے اور جشنِ آزادی کے رنگوں میں ڈوبا نظر آیا۔

ماسکو میں منعقد ہونے والے اس بڑے عوامی ثقافتی پروگرام نے روسی شہریوں کو بھی پاکستان کی موسیقی، علاقائی ثقافت اور روایات کو قریب سے دیکھنے کا موقع فراہم کیا۔ شرکا نے پاکستانی فنکاروں کی پرفارمنس کو بے حد پسند کیا اور تقریب کے اختتام تک پنڈال میں جوش و خروش برقرار رہا۔

وائس آف رشیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے کہا کہ ماسکو میں پاکستانی فنکاروں کی پرفارمنس اور روسی عوام کی بھرپور شرکت خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کی ثقافتی سرگرمیاں پاکستان اور روس کے عوام کو ایک دوسرے کے قریب لانے اور دونوں ممالک کے درمیان دوستی کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

معروف وائلن نواز اور پرائیڈ آف پرفارمنس استاد رئیس خان نے بھی دنیا نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ماسکو میں ملنے والی محبت اور پذیرائی کو یادگار قرار دیا۔ استاد رئیس خان نے کہا، “میں دنیا کے بہت سے ممالک میں اپنے فن کا مظاہرہ کر چکا ہوں، لیکن ماسکو میں مجھے جس قدر پیار، محبت اور داد ملی اور یہاں پرفارم کرکے جو لطف آیا، اسے میں زندگی بھر نہیں بھول سکوں گا۔”

دنیا نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی اور روسی شرکا نے تقریب کو شاندار قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے ثقافتی پروگرام مستقبل میں بھی منعقد ہونے چاہئیں، کیونکہ ایسے عوامی اجتماعات دونوں ممالک کے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

ماسکو کی کھلی فضا میں پاکستانی قومی دھنیں، علاقائی موسیقی، خٹک ڈانس اور نوجوانوں کے بھنگڑے نہ صرف جشنِ آزادی کی خوشیوں کا اظہار بنے بلکہ روسی عوام کو پاکستان کی رنگا رنگ ثقافت سے روشناس کرانے کا ذریعہ بھی بنے۔ تقریب کے اختتام تک پاکستانی اور روسی شرکا موسیقی کی دھنوں پر جھومتے رہے اور ماسکو میں سجنے والی یہ پاکستانی شام حاضرین کے لیے ایک یادگار لمحہ بن گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں