ماسکو (وائس آف رشیا): روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ روس جیسے وسیع رقبے کے حامل ملک میں مختلف علاقوں کا آبادی سے خالی ہونا ناقابل قبول ہے، حکومت کو ایسے حالات پیدا کرنا ہوں گے کہ نوجوان اپنے آبائی شہروں اور قصبوں میں رہیں، کام کریں اور وہیں اپنا مستقبل تعمیر کر سکیں۔
شہری منصوبہ بندی اور علاقائی ترقی کے شعبے سے وابستہ نمائندوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر پوتن نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی، انٹرنیٹ، مصنوعی ذہانت اور دیگر آئی ٹی سہولیات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے علاقائی ترقی کے لیے ایک متوازن حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔
صدر پوتن کے مطابق روس میں 2 ہزار 160 اہم شہروں اور قصبوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جہاں ملک کی تقریباً 75 فیصد آبادی رہتی ہے۔ ان علاقوں کے لیے ترقیاتی پروگرام تیار کیا گیا ہے جس کا مقصد اقتصادی، سماجی اور بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے ساتھ لاکھوں افراد کے معیار زندگی کو بہتر بنانا ہے۔
روسی صدر نے کہا کہ نوجوانوں کی اس خواہش کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے کہ وہ اپنے آبائی شہروں یا دیہات میں رہیں اور وہیں اپنا مستقبل بنائیں۔ ان کے مطابق ان منصوبوں پر منظم انداز میں کام جاری ہے اور اہم انفراسٹرکچر منصوبے بھی مکمل کیے جا رہے ہیں۔
صدر پوتن نے روسی شہروں کو جدید بنانے کے دوران ان کی تاریخی اور منفرد شناخت محفوظ رکھنے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ جدید اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال کے ساتھ نئی تعمیرات کو پہلے سے موجود شہری ماحول میں اس طرح شامل کیا جانا چاہیے کہ شہروں کی تاریخی شکل اور ثقافتی ورثہ متاثر نہ ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ روس کے مختلف شہروں اور علاقوں کی ثقافتی اور تاریخی انفرادیت ملک کا قیمتی اثاثہ ہے اور تاریخی عمارتوں اور ثقافتی ورثے کو محفوظ کرنے کے ساتھ انہیں نئی زندگی دینے کی ضرورت ہے۔
صدر پوتن نے خصوصی فوجی آپریشن کے سابق فوجیوں کے حوالے سے کہا کہ انہیں صرف دوبارہ شہری زندگی میں واپس لانا کافی نہیں بلکہ انہیں زندگی میں آگے بڑھنے، نیا پیشہ اختیار کرنے اور ضروری سہولیات حاصل کرنے کے مواقع بھی فراہم کیے جانے چاہئیں۔
روسی صدر نے مشرق بعید اور ٹرانس بائیکال علاقوں کی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ان خطوں پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ ان کے مطابق معیشت، صنعت اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے ساتھ لوگوں کے لیے ایسا ماحول بنانا بھی ضروری ہے جہاں وہ مستقل رہنا اور اپنے بچوں کی پرورش کرنا چاہیں۔
صدر پوتن نے کہا کہ دور دراز علاقوں میں اگر مناسب رہائشی ماحول اور بنیادی سہولیات میسر نہ ہوں تو لوگ وہاں مستقل آباد ہونے کے بجائے صرف روٹیشن کی بنیاد پر کام کرنے کے لیے آئیں گے۔
پوتن نے شہروں کی ترقی کے لیے ماسٹر پلان سے متعلق قانون کی ضرورت کی بھی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح کیا جا سکے گا کہ کہاں، کب اور کیا تعمیر کیا جانا ہے، منصوبے کے اہداف کیا ہوں گے اور اس کے کیا نتائج حاصل کیے جائیں گے۔









