نیویارک(وائس آف رشیا) یوکرین کو فضائی دفاع کے لیے درکار میزائلوں کی فراہمی میں تاخیر کے باعث روس کے ساتھ تنازع کے حل کے لیے ماسکو کی شرائط تسلیم کرنا پڑ سکتی ہیں۔ یہ رائے بلومبرگ کے کالم نگار مارک چیمپیئن نے اپنے ایک تجزیے میں ظاہر کی ہے۔
مارک چیمپیئن کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان تنازع کے باعث یوکرین کو امریکی ساختہ پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام کے میزائلوں کی قلت کا سامنا ہے، جبکہ فوجی سازوسامان کی فراہمی میں تاخیر سے کیف کے لیے اپنے فضائی دفاع کو مطلوبہ سطح پر برقرار رکھنا مشکل ہو رہا ہے۔
کالم نگار کے مطابق فرانس اور اٹلی یوکرین کو اپنے SAMP/T فضائی دفاعی نظام فراہم کرنے کے امکان پر بات چیت کر رہے ہیں، تاہم ان سسٹمز کے لیے دستیاب انٹرسیپٹر میزائلوں کا ذخیرہ امریکی نظام کے مقابلے میں بھی کم ہے۔
مارک چیمپیئن کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں تین ممکنہ راستے نظر آتے ہیں۔ پہلا یہ کہ مغربی ممالک یوکرین کے لیے مطلوبہ فضائی دفاعی میزائلوں کا انتظام کر لیں۔ دوسرا یہ کہ کیف ڈونباس سے یوکرینی افواج کے انخلا سے متعلق روس کا مطالبہ تسلیم کر لے۔
انہوں نے تیسرے امکان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا نہیں ہوتا تو تنازع کم از کم 2027 تک جاری رہ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں یوکرین کو ان کے بقول ایک اور زیادہ سخت موسم سرما کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔









