ماسکو(وائس آف رشیا) روسی وفاقی سلامتی ادارے (ایف ایس بی) نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی روس کے شہر پیاتی گورسک میں پراسیکیوٹر کے دفتر کے قریب منصوبہ بند دہشت گرد حملے کو ناکام بنا کر وسطی ایشیا سے تعلق رکھنے والے ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
ایف ایس بی کے مطابق گرفتار ہونے والا ملزم 2001 میں پیدا ہونے والا ایک وسطی ایشیائی ملک کا شہری ہے اور روس میں کالعدم قرار دی گئی ایک بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم کا پیروکار ہے۔
روسی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم شام میں موجود دہشت گرد تنظیم کے ایک آپریٹو کی ہدایات اور نگرانی میں پیاتی گورسک کے پراسیکیوٹر آفس کے قریب دیسی ساختہ بم کو ریموٹ کنٹرول کے ذریعے دھماکے سے اڑانے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ اس مقصد کے لیے اس نے علاقے کی نگرانی کی اور بم تیار کرنے کے لیے درکار سامان بھی حاصل کر لیا تھا۔
ایف ایس بی کے مطابق ملزم کے گھر کی تلاشی کے دوران دیسی ساختہ بم بنانے کے لیے استعمال ہونے والے کیمیائی مواد، پرزے اور دھاتی ٹکڑے برآمد کر لیے گئے۔ روسی حکام کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد ملزم شام جا کر اس دہشت گرد تنظیم میں شامل ہونے کا ارادہ رکھتا تھا۔
واقعے کے بعد اسٹاوروپول ریجن میں ایف ایس بی کے تحقیقاتی شعبے نے دہشت گرد حملے کی تیاری کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا ہے، جبکہ مزید تفتیش جاری ہے۔









