نیویارک(وائس آف رشیا): امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج نے ایران کے جزیرے قشم میں ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنانے کے لیے تقریباً 907 کلوگرام (2 ہزار پاؤنڈ) وزنی MK-84 فضائی بم استعمال کیا، جس کے نتیجے میں تین افراد ہلاک ہو گئے۔
رپورٹ کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر اور عسکری ماہرین کے تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ حملے کے مقام پر بننے والے گڑھے اور بم کے ٹکڑوں سے MK-84 بھاری فضائی بم کے استعمال کی نشاندہی ہوتی ہے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق حملے کی جگہ کے قریب کسی فوجی تنصیب کے شواہد نہیں ملے، جبکہ کارروائی ایک گنجان آباد رہائشی علاقے میں کی گئی۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے اخبار کو بتایا کہ امریکی فوجی قیادت اس حملے سے متعلق معلومات سے آگاہ ہے اور واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کبھی بھی جان بوجھ کر شہریوں کو نشانہ نہیں بناتا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ کا آغاز کیا تھا، جبکہ جون میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر اتفاق ہوا تھا جس کے تحت تمام محاذوں، بشمول لبنان، میں فوری جنگ بندی کی گئی۔ تاہم 8 جولائی کی شب امریکا نے آبنائے ہرمز سے متعلق معاہدوں کی مبینہ خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے ایران پر دوبارہ بڑے پیمانے پر حملے شروع کر دیے۔









