روس کے بینکوں اور مالیاتی اداروں پر یورپی یونین کا ایک اور بڑا پابندیوں کا وار

برسلز(وائس آف رشیا): یورپی یونین نے روس کے خلاف اکیسویں پابندیوں کے پیکج کے تحت روس کے مالیاتی اور بینکاری شعبے پر عائد پابندیوں میں مزید توسیع کرتے ہوئے درجنوں بینکوں، مالیاتی اداروں اور کرپٹو سروسز کو نئی پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔

یورپی یونین کی کونسل کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 94 روسی بینکوں اور بڑے مالیاتی اداروں کے اثاثے منجمد کیے جا رہے ہیں، جبکہ انہیں کسی بھی قسم کے مالی وسائل یا فنڈز فراہم کرنے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ روس کے بینکاری شعبے کی ایک اہم شخصیت کو بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یورپی یونین نے 33 مزید روسی کریڈٹ اور مالیاتی اداروں کے ساتھ مالی لین دین پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔

یورپی یونین نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ روس کے SPFS (سسٹم فار ٹرانسفر آف فنانشل میسجز) سے تعلق رکھنے کے الزام میں کرغزستان کے ایک بینک پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے، جبکہ پابندیوں سے بچنے میں مبینہ معاونت پر تین دیگر غیر روسی بینکوں کو بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

بیان کے مطابق سرحد پار مالیاتی نیٹ ورک A7 سے متعلق مزید چار اداروں کو بھی پابندیوں کا نشانہ بنایا گیا ہے، جن میں افریقہ سے منسلک نئے روابط بھی شامل ہیں۔

اس کے علاوہ جارجیا، پاناما، متحدہ عرب امارات، مارشل آئی لینڈز، کرغزستان اور بیلاروس میں قائم 14 کرپٹو کرنسی سروس پلیٹ فارمز کے ساتھ لین دین پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

یورپی یونین نے پہلی مرتبہ یہ اختیار بھی متعارف کرایا ہے کہ ضرورت پڑنے پر تیسرے ممالک میں قائم کرپٹو اثاثہ جاتی خدمات فراہم کرنے والے اداروں پر مکمل پابندی عائد کی جا سکے۔

یورپی یونین کے مطابق اس اقدام کا مقصد ایسے ممالک اور پلیٹ فارمز کی حوصلہ شکنی کرنا ہے جو مبینہ طور پر روس کو یورپی پابندیوں سے بچنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ نئے ضابطے کے تحت یورپی یونین کے کسی بھی ادارے کو ایسے کرپٹو سروس فراہم کنندگان کے ساتھ لین دین سے روکا جا سکے گا جنہیں روس پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال کرتا ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں