ماسکو(وائس آف رشیا): کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے یوکرین تنازع، امریکہ کے ساتھ جاری رابطوں، جوہری عدم پھیلاؤ اور پرامن جوہری توانائی کے استعمال سے متعلق روس کے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماسکو مذاکرات کے لیے بدستور تیار ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ “روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ہم بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدان میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔

دیمتری پیسکوف نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکہ کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کے لیے کوششوں میں کوئی نمایاں تیزی آ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس صورتحال میں میں زیادہ پرامید نہیں ہوں گا۔ رابطے یقینی طور پر جاری ہیں، جو ہمیشہ ایک مثبت بات ہے، لیکن اس وقت کسی نئے رجحان یا مذاکراتی کوششوں میں تیزی کی بات کرنا درست نہیں ہوگا۔
کریملن کے ترجمان نے کہا کہ روس موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکہ کے ساتھ رابطے میں ہے اور امید ہے کہ جب امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات سے فارغ ہوں گے تو وہ ماسکو کا دورہ کر سکیں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے بارے میں روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جوہری عدم پھیلاؤ سے ہمارا مؤقف جوہری ہتھیاروں سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔









