اسلام آباد (محمد شہریارشاہد) پاکستان میں روس کے سفیر البرٹ پی خوریف نے یوکرین کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ بحران کے سیاسی حل کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں، تاہم اس عمل کو یورپی ممالک کی مزاحمت اور زمینی حقائق سے انکار نے پیچیدہ بنا دیا ہے۔
سفیر البرٹ خوریف کے مطابق 3 دسمبر کو ماسکو میں روسی صدر ولادیمیر پوتن اور امریکی مذاکرات کاروں سٹیون وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے درمیان اہم بات چیت ہوئی، جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملاقات تعمیری، مفید اور ٹھوس رہی اور اس میں 15 اگست کو اینکریج سربراہی اجلاس میں طے پانے والے روس-امریکہ معاہدوں پر پیش رفت ہوئی۔
روسی سفیر کا کہنا تھا کہ یوکرینی بحران کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا مشکل ثابت ہو رہا ہے کیونکہ بعض یورپی طاقتیں اب بھی روس کو ’’تزویراتی شکست‘‘ دینے کے غیر حقیقی تصورات سے باہر نہیں نکل رہیں۔

انہوں نے مغربی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ روس پر ہزاروں یوکرائنی بچوں کو اغوا کرنے کے دعوے بے بنیاد ہیں۔ براہ راست روس-یوکرین مذاکرات کے دوران صرف 339 بچوں کی فہرست فراہم کی گئی، جبکہ نابالغوں کی واپسی کے لیے روسی صدارتی کمشنر برائے بچوں کے حقوق ماریا لیووا-بیلووا کی سربراہی میں عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
البرٹ خوریف نے یورپی یونین کی جانب سے قائم کیے جانے والے مبینہ نیم قانونی ڈھانچوں، جن میں ’’یوکرین کو پہنچنے والے نقصانات کا رجسٹر‘‘، ’’بین الاقوامی کمیشن برائے دعوے‘‘ اور ’’خصوصی ٹریبونل‘‘ شامل ہیں، کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ روس ان اداروں کے کسی بھی فیصلے کو تسلیم نہیں کرے گا اور ان کی حمایت کرنے والے ممالک کو روس مخالف اقدامات کے مترادف سمجھا جائے گا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ یورپی مالیاتی اداروں میں موجود روسی خودمختار اثاثوں کو ضبط کرنے کی کسی بھی کوشش کو کھلی چوری تصور کیا جائے گا، جس کے مغربی اداروں اور ذمہ دار افراد کے لیے سنگین نتائج ہوں گے۔
روسی سفیر نے یوکرین کی موجودہ قیادت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک کمزور اور بدعنوان حکومت میں اربوں ڈالر جھونکے جا رہے ہیں، جبکہ حالیہ تحقیقات نے یوکرین کے توانائی شعبے میں 100 ملین ڈالر کی خردبرد کو بے نقاب کیا ہے۔ ان کے بقول، چند حکومتی عہدیداروں کی برطرفی دراصل صدر زیلینسکی کی جانب سے الزام دوسروں پر ڈالنے کی کوشش ہے، تاہم حقائق کا سرا بالآخر خود زیلینسکی تک جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک کی جارحانہ مالیاتی پالیسیوں اور غیر قانونی پابندیوں نے عالمی معیشت، پیداواری و ترسیلی نظام، سرمایہ کاری اور تجارت کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور کئی ممالک کے لیے وسائل اور ٹیکنالوجی تک رسائی محدود ہو گئی ہے۔
سفیر البرٹ خوریف کے مطابق یوکرین میں بھڑکایا گیا تنازع یورو اٹلانٹک سلامتی کے نظام کے مکمل زوال کا باعث بن چکا ہے، جس کے بعد یوریشیائی سلامتی کے ایک نئے، منصفانہ نظام کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ روس ’’سلامتی کی ناقابل تقسیم‘‘ کے اصول پر مبنی یوریشیائی سلامتی کے ڈھانچے کے قیام کی حمایت کرتا ہے۔
انہوں نے نوآبادیاتی نظام کے خلاف روس کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 14 نومبر کو ماسکو میں اس حوالے سے ایک بین الاقوامی فورم منعقد ہوا، جس میں ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے تقریباً 30 ممالک نے شرکت کی۔
آخر میں روسی سفیر نے یوکرین تنازع پر پاکستان کی غیر جانبدار پالیسی کو سراہتے ہوئے کہا کہ روس، بیرونی دباؤ کے باوجود اقوام متحدہ سمیت عالمی فورمز پر پاکستان کے متوازن مؤقف کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔









