پاکستان اور روس کے تعلقات کے فروغ کے لیے تیسری بین الاقوامی کانفرنس 6 اپریل سے اسلام آباد میں ہوگی

اسلام آباد (وائس آف رشیا): پاکستان اور روس کے درمیان سیاسی، سفارتی، اقتصادی، تعلیمی اور ثقافتی تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے تیسری پاکستان روس بین الاقوامی کانفرنس 6 سے 8 اپریل 2027 تک وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں منعقد ہوگی، جس میں پاکستان، روس اور دیگر ممالک کے محققین، ماہرین تعلیم، سفارت کاروں، پالیسی ماہرین اور طلبہ کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔

تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی (FUUAST) اسلام آباد، روس کی معروف کازان فیڈرل یونیورسٹی اور کنسورشیم فار ایشیا پیسیفک اینڈ یوریشین اسٹڈیز (CAPES) کے مشترکہ تعاون سے کیا جائے گا۔

منتظمین کے مطابق کانفرنس کا مرکزی موضوع ’’کثیر قطبی دنیا میں پاکستان اور روس کے تعلقات کا ازسرِنو تصور، عملی تعاون، کثیرالجہتی پلیٹ فارمز اور مشترکہ مستقبل‘‘ رکھا گیا ہے، جس کا مقصد بدلتے ہوئے عالمی حالات میں پاکستان اور روس کے درمیان تعاون کے نئے امکانات، علاقائی روابط اور مشترکہ مفادات سے متعلق اہم امور پر علمی و تحقیقی تبادلہ خیال کو فروغ دینا ہے۔

کانفرنس میں پاکستان اور روس کی اسٹریٹجک شراکت داری، عالمی نظام میں رونما ہونے والی تبدیلیوں اور کثیر قطبی دنیا میں دونوں ممالک کے کردار پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ اس کے علاوہ شنگھائی تعاون تنظیم (SCO)، برکس (BRICS)، یوریشین اکنامک یونین (EAEU) اور یوریشیائی خطے میں کثیرالجہتی تعاون کے امکانات بھی اہم موضوعات میں شامل ہوں گے۔

اقتصادی تعاون کے حوالے سے پاکستان اور روس کے درمیان دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، علاقائی رابطہ کاری اور تجارتی راہداریوں کے امکانات پر تحقیقی مقالات پیش کیے جائیں گے۔ کانفرنس میں ان شعبوں سے متعلق عملی تعاون کے امکانات اور مستقبل کی ترجیحات کو بھی زیرِ بحث لایا جائے گا۔

افغانستان کی صورت حال بھی کانفرنس کے اہم موضوعات میں شامل ہوگی۔ اس سلسلے میں افغانستان میں علاقائی استحکام، سلامتی کے مسائل اور پاکستان و روس کے درمیان تعاون کے امکانات پر ماہرین کو اپنے تحقیقی خیالات پیش کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔

سائنس و ٹیکنالوجی، جدت، تحقیق اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اقدامات بھی کانفرنس کے ایجنڈے کا حصہ ہیں۔ منتظمین نے ان شعبوں میں پاکستان اور روس کے درمیان علمی اور سائنسی تعاون سے متعلق تحقیقی مقالات طلب کیے ہیں۔

کانفرنس میں عوامی سفارت کاری، ذرائع ابلاغ، ثقافت اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان براہِ راست روابط کے فروغ کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ اس موضوع کے تحت میڈیا کے کردار، ثقافتی تبادلوں، تعلیمی روابط اور پاکستان و روس کے عوام کے درمیان باہمی آگاہی بڑھانے کے امکانات پر گفتگو کی جائے گی۔

منتظمین نے کانفرنس میں شرکت کے خواہش مند محققین، اساتذہ، سفارت کاروں، ماہرین اور طلبہ سے تحقیقی مقالات کے خلاصے طلب کرلیے ہیں۔ تحقیقی خلاصے انگریزی یا روسی زبان میں جمع کرائے جاسکتے ہیں، جبکہ ان کی وصولی کی آخری تاریخ 5 جنوری 2027 مقرر کی گئی ہے۔

اعلان کے مطابق موصول ہونے والے تحقیقی خلاصوں کی منظوری سے متعلق اطلاع 25 جنوری 2027 کو دی جائے گی، جبکہ مکمل تحقیقی مقالہ جمع کرانے کی اختیاری آخری تاریخ 15 فروری 2027 ہوگی۔

کانفرنس کے لیے ابتدائی رجسٹریشن کی آخری تاریخ 28 فروری 2027 اور حتمی رجسٹریشن کی آخری تاریخ 18 مارچ 2027 مقرر کی گئی ہے۔

منتظمین نے پاکستان، روس اور دیگر ممالک کے تعلیمی و تحقیقی اداروں سے وابستہ افراد کو کانفرنس میں شرکت اور اپنے تحقیقی کام پیش کرنے کی دعوت دی ہے۔ دلچسپی رکھنے والے افراد آن لائن فارم کے ذریعے اپنے تحقیقی خلاصے جمع کراسکتے ہیں، جبکہ مزید معلومات کے لیے وفاقی اردو یونیورسٹی کے متعلقہ رابطہ ای میل پر بھی رجوع کیا جاسکتا ہے۔

تیسری پاکستان روس بین الاقوامی کانفرنس کا اعلان ایسے علمی پلیٹ فارم کی فراہمی کی جانب ایک قدم ہے جہاں دونوں ممالک کے تعلقات کے سیاسی، اقتصادی، علاقائی اور سماجی پہلوؤں پر منظم تحقیقی تبادلہ خیال کیا جاسکے گا۔

کانفرنس میں زیرِ بحث آنے والے موضوعات پاکستان اور روس کے درمیان مستقبل کے عملی تعاون، علاقائی شراکت داری اور تعلیمی و ثقافتی روابط کے امکانات کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں