ماسکو (وائس آف رشیا): روس کی وزارت خارجہ نے عالمی انسانی حقوق کے اداروں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ یوکرین کے زیر کنٹرول علاقوں میں ہونے والی مبینہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور زیر حراست افراد پر تشدد کے واقعات کو نظرانداز کر رہے ہیں، جس سے مزید جرائم کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے۔
روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زخارووا نے ماسکو میں پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ یوکرین میں قائم ایسے مراکز کی خوفناک ویڈیوز سامنے آنے کے باوجود، جہاں مبینہ طور پر لوگوں کو غیر قانونی طور پر قید کرکے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ماریہ زخارووا نے کہا کہ یورپی دارالحکومتوں سے لے کر اقوام متحدہ، اس کے خصوصی اداروں، یونیسکو اور یورپ میں سلامتی و تعاون کی تنظیم (او ایس سی ای) تک کسی نے بھی ان واقعات پر مؤثر کارروائی نہیں کی۔
انہوں نے عالمی انسانی حقوق کے خصوصی نمائندوں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے دفاتر میں بیٹھے ہوئے ہیں، جبکہ یوکرین کے زیر کنٹرول علاقوں میں مبینہ طور پر انسانیت کے خلاف جرائم جاری ہیں۔
روسی ترجمان کے مطابق عالمی ادارے ان واقعات سے مسلسل چشم پوشی کر رہے ہیں اور اس طرح مزید خلاف ورزیوں کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے۔
ماریہ زخارووا نے الزام لگایا کہ مبینہ جرائم میں ملوث مسلح افراد کو مزید کارروائیوں کے لیے مالی وسائل بھی فراہم کیے جا رہے ہیں۔
کیف کے قریب نجی مکان کے تہہ خانے میں 40 افراد کو قید رکھنے کی اطلاعات
روسی وزارت خارجہ کی ترجمان نے اپنے بیان میں 2 نومبر کو یوکرینی ذرائع ابلاغ میں سامنے آنے والے ایک واقعے کا حوالہ بھی دیا۔
یوکرینی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق کیف کے قریب ایک نجی مکان کے تہہ خانے میں مسلح محافظوں نے تقریباً 40 مردوں کو رکھا ہوا تھا۔
رپورٹس کے مطابق ایک ایمبولینس جائے وقوعہ پر پہنچی، جہاں ایک خاتون طبی کارکن نے بتایا کہ انہیں ایک ویڈیو موصول ہوئی تھی جس میں تہہ خانے میں موجود بعض افراد کی حالت انتہائی تشویشناک دکھائی دے رہی تھی، جبکہ متعدد افراد کے جسموں پر ایسے زخم تھے جو مبینہ تشدد کی نشاندہی کرتے تھے۔
تاہم عمارت پر تعینات محافظوں نے ابتدائی طور پر طبی عملے کو اندر جانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔
اس دوران عمارت کے باہر مقامی شہریوں اور محافظوں کے درمیان تلخ کلامی اور ہاتھا پائی ہوئی۔ مشتعل شہریوں نے عمارت کا گیٹ توڑنے کی کوشش کی تو ان کے خلاف آنسو گیس بھی استعمال کی گئی۔
واقعے کی اطلاعات بڑے پیمانے پر سامنے آنے کے بعد ایمبولینس کے عملے کو چار زخمی افراد کو وہاں سے منتقل کرنے کی اجازت دی گئی۔
رپورٹس کے مطابق چاروں افراد کے جسموں پر مارپیٹ کے نشانات موجود تھے، جبکہ ایک شخص کی حالت انتہائی تشویشناک تھی۔
یوکرینی نیشنل گارڈ نے عمارت میں اہلکاروں کی موجودگی تسلیم کر لی
واقعے کے بعد یوکرینی پولیس نے باضابطہ طور پر بتایا کہ متعلقہ مکان میں یوکرین کی نیشنل گارڈ کے اہلکار موجود تھے۔
یوکرین کی نیشنل گارڈ کے کمانڈر الیگزینڈر پیونینکو نے بتایا کہ زخمی ہونے والے چاروں افراد فوجی اہلکار تھے جو اپنی متعلقہ فوجی یونٹوں سے فرار ہو گئے تھے۔
انہوں نے متعلقہ مکان کو عارضی رہائش کی جگہ قرار دیا اور اس بات کی بھی تصدیق کی کہ وہاں فوج میں بھرتی کیے گئے دیگر اہلکاروں کو بھی رکھا گیا تھا۔
عالمی اداروں سے متعلق روسی مؤقف
ماریہ زخارووا نے اس واقعے کو بنیاد بناتے ہوئے عالمی انسانی حقوق کے اداروں کے طرز عمل پر سوالات اٹھائے اور کہا کہ یوکرین کے زیر کنٹرول علاقوں میں مبینہ زیادتیوں کے شواہد سامنے آنے کے باوجود متعلقہ بین الاقوامی تنظیمیں خاموش ہیں۔
روسی وزارت خارجہ کے مطابق ایسے واقعات پر مؤثر بین الاقوامی ردعمل نہ آنے سے انسانی حقوق کی مزید خلاف ورزیوں کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔
تاہم روسی ترجمان کی جانب سے عائد کردہ وسیع تر الزامات کی آزادانہ تصدیق فراہم نہیں کی گئی، جبکہ متعلقہ واقعے میں تشدد کے الزامات اور ذمہ داری کے تعین سے متعلق تحقیقات کے حتمی نتائج بھی سامنے نہیں آئے۔









