روس میں 600 سرکاری سرپرستی میں چلنے والے تھیٹر موجود، فنونِ لطیفہ کے فروغ کے لیے نئی حکمت عملی تیار، صدر پوتن

ماسکو: (وائس آف رشیا) روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ روس میں تقریباً 600 پیشہ ورانہ تھیٹر سرکاری سرپرستی میں کام کر رہے ہیں اور ملک میں تھیٹر کی ترقی کے لیے نئی حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے۔ انہوں نے تخلیقی تنظیموں کو خصوصی قانونی حیثیت دینے، ان کے اراکین کے حقوق کے تحفظ اور مالی معاونت کے مؤثر نظام کی تشکیل کی تجویز بھی پیش کی ہے۔

22 اکتوبر کو ماسکو میں روس کی یونین آف تھیٹر ورکرز کی 150ویں سالگرہ اور دسویں کانگریس کے موقع پر ایک خصوصی تقریب منعقد ہوئی، جس میں صدر پوتن نے شرکت کی۔ کانگریس میں تنظیم کا تاریخی نام بحال کرتے ہوئے اسے دوبارہ روسی تھیٹر سوسائٹی کا نام دینے کا فیصلہ کیا گیا۔

تقریب کے دوران صدر پوتن نے روسی تھیٹر اور فنونِ لطیفہ کے فروغ میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں تنظیم کو ریاستی اعزاز آرڈر فار میرٹس اِن کلچر اینڈ آرٹ سے نوازا۔ یہ اعزاز تنظیم کے چیئرمین اور معروف روسی اداکار ولادیمیر ماشکوف نے وصول کیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر پوتن نے کہا کہ روسی تھیٹر کی تاریخ کئی صدیوں پر محیط ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ روس کا پہلا پیشہ ورانہ تھیٹر یاروسلاول شہر میں فیودر وولکوف نے قائم کیا تھا، جہاں مستقل فنکاروں کی جماعت کے ڈرامے دیکھنے کے لیے ہزاروں افراد آتے تھے۔

روسی صدر کے مطابق آج ملک میں تقریباً 600 پیشہ ورانہ تھیٹر سرکاری معاونت سے کام کر رہے ہیں اور روس میں تھیٹر کو حاصل ریاستی سرپرستی اپنی نوعیت کی منفرد مثال ہے۔

انہوں نے کہا کہ روسی تھیٹر نے اپنے اندر ادب، موسیقی، مصوری اور رقص سمیت مختلف فنون کو یکجا کیا ہے اور ملک کے ثقافتی تشخص کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

صدر پوتن نے کہا کہ سنیما، ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ بھی تھیٹر کی جگہ نہیں لے سکے۔ ان کے مطابق تھیٹر کی سب سے بڑی خوبی فنکاروں اور شائقین کے درمیان براہ راست تعلق ہے، جو ناظرین کو ڈرامے کے کرداروں کے جذبات اور تجربات سے جوڑتا ہے۔

انہوں نے معروف روسی ہدایت کار مارک زخاروف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ روسی تھیٹر میں انسان کو بیک وقت سوچنے، ہنسنے اور رونے کا موقع ملتا ہے۔

روسی صدر نے بتایا کہ آج تھیٹر کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے اور صرف ماسکو یا دیگر بڑے شہروں میں ہی نہیں بلکہ مختلف علاقائی تھیٹروں میں بھی ڈراموں کے شوز بڑی تعداد میں شائقین کو اپنی جانب متوجہ کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ روس کے بیشتر پیشہ ورانہ تھیٹر وفاقی، علاقائی یا بلدیاتی بجٹ سے مالی معاونت حاصل کرتے ہیں، جو ملک کے ثقافتی اتحاد اور مشترکہ انسانی اقدار کے فروغ کے لیے نہایت اہم ہے۔

صدر پوتن نے تھیٹر کے منصوبوں میں نجی کاروباری اداروں کی سرمایہ کاری کا بھی خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ایسی سرگرمیوں کو منظم انداز میں سرکاری حمایت ملنی چاہیے۔

ثقافتی پالیسی پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ روس میں 2030 تک کی ریاستی ثقافتی حکمت عملی نافذ ہے، جبکہ لائبریریوں اور تخلیقی صنعتوں کی ترقی کے لیے بھی حکمت عملیاں منظور کی جا چکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسی طرز پر تھیٹر کے شعبے کے لیے بھی ایک نئی ترقیاتی حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے، جس کا مقصد حکومت، معاشرے اور تھیٹر سے وابستہ افراد کی مشترکہ کوششوں کو مؤثر بنانا ہے۔

صدر پوتن نے تھیٹر کو روایتی اقدار نئی نسل تک منتقل کرنے والا ایک اہم ادارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا کردار محض تفریح تک محدود نہیں بلکہ تعلیم، تربیت اور اخلاقی شعور کی تشکیل میں بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تھیٹر صرف ایک ثقافتی ادارہ نہیں بلکہ تخلیقی سوچ، تخیل اور زندگی کے معنی تلاش کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔

روسی صدر نے نوجوان نسل پر تھیٹر کے اثرات کو خصوصی اہمیت دیتے ہوئے کہا کہ فنکار اور ہدایت کار نوجوانوں کے ذہنوں اور دلوں میں جو خیالات اور اقدار پیدا کرتے ہیں، وہی مستقبل کے روس کی تشکیل میں کردار ادا کریں گے۔

تنظیم کے تاریخی نام کی بحالی کا خیرمقدم کرتے ہوئے صدر پوتن نے کہا کہ 1876 میں روسی فنکاروں کی باہمی امداد کے لیے قائم ہونے والی اس تنظیم نے وقت کے ساتھ تھیٹر کی ترقی، فنکاروں کی مدد اور ثقافتی روایات کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے تنظیم کی قیادت میں دوبارہ منتخب ہونے پر ولادیمیر ماشکوف کو مبارک باد بھی دی۔

صدر پوتن نے تخلیقی تنظیموں کے موجودہ قانونی ڈھانچے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بعض قانونی پابندیوں کے باعث یہ تنظیمیں اپنے اراکین، خصوصاً سابق فنکاروں کی مدد اور سرکاری منصوبوں میں مکمل شرکت کے مواقع سے فائدہ نہیں اٹھا پاتیں۔

انہوں نے تجویز دی کہ تخلیقی تنظیموں کو قانون کے ذریعے خصوصی حیثیت دی جائے تاکہ وہ سرکاری منصوبوں کی تشکیل میں زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکیں، اپنے اراکین کے تخلیقی، ملازمتی اور سماجی حقوق کا تحفظ کر سکیں اور انہیں مالی معاونت کے واضح طریقہ کار میسر آئیں۔

تقریب میں صدر پوتن نے تنظیم کو ثقافت اور فنونِ لطیفہ کے شعبے میں خدمات کے اعتراف میں دیا گیا ریاستی اعزاز اس کے چیئرمین ولادیمیر ماشکوف کے حوالے کیا۔

ولادیمیر ماشکوف نے اعزاز پر صدر پوتن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ روسی تھیٹر سوسائٹی میں صرف فنکار ہی نہیں بلکہ حکومت، شراکت دار، دوست اور تھیٹر سے محبت کرنے والے شائقین بھی شامل ہیں۔

اس موقع پر انہوں نے صدر پوتن کو روسی تھیٹر سوسائٹی کا نمبر ایک اعزازی نشان بھی پیش کیا، جسے 1876 میں قائم ہونے والی تاریخی تنظیم کے اصل نشان کی طرز پر دوبارہ تیار کیا گیا ہے۔

صدر پوتن نے یہ اعزاز وصول کرتے ہوئے خوشگوار انداز میں کہا کہ انہوں نے اپنی تقریر کے آغاز میں حاضرین کو ساتھی کہہ کر مخاطب کرنے کا ارادہ ترک کر دیا تھا، لیکن اب اس اعزاز کے بعد وہ انہیں اپنے ساتھی کہہ سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں